لاہور (مبشر مجید مرزا سے)انجمن طلبہ اسلام کی مرکزی مجلسِ مشاورت کا چوتھا اہم اجلاس مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کی صدارت میں جامعہ قادریہ رضویہ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر بشمول ریاست آزاد جموں و کشمیر سے اراکینِ مشاورت نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج سے ملک بھر میں “تعمیرِ ملت ہمدرد سازی مہم” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق 10 مئی کو آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں “بنیان مرصوص سیمینارز” اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔مرکزی و صوبائی عہدیداران ملک بھر بشمول آزاد کشمیر کے تفصیلی تنظیمی دورے کریں گے، جبکہ جولائی اور اگست میں صوبائی سطح پر طلبہ کنونشنز اور ڈویژنل سطح پر الصفہ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔ماہِ ربیع الاوّل کو “حی علیٰ حب الرسول ﷺ” کے عنوان سے بھرپور انداز میں منایا جائے گا، جس کے تحت تعلیمی اداروں میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر 12 روزہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے، مرکزی نائب صدر (اول) نصر اللہ سلطان طور، سیکرٹری جنرل سردار بیدار حسین، اراکینِ مشاورت محمد اکرم رضوی، راجہ منصور اقبال اور دیگر رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک گیر “تعمیرِ ملت ہمدرد سازی مہم” کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان انجمن طلبہ اسلام کا حصہ بنیں گے۔طلبہ یونینز پر پابندی 1973 کے آئین سے صریحاً متصادم ہے، طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ کر کے یکساں نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے اور تعلیمی بجٹ میں فوری اضافہ کیا جائے۔پاکستان بنانے والوں کے فکری وارثین آج بھی نظریاتی دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے۔ استعماری قوتیں مسلمانوں کے جذبۂ عشقِ رسول ﷺ سے خائف ہیں، جبکہ کشمیری عوام حقِ خودارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان کا ہر نوجوان ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ توہینِ رسالت ﷺ کے مجرموں کی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کے فیصلوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں اور ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔وطنِ عزیز کو عظیم تر بنانے کے لیے قوم کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور ملک کو کمزور کرنے کی کوششوں کا مؤثر جواب قومی اتحاد کے ذریعے دینا ہوگا۔انہوں نے موجودہ مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی مسائل کی زد میں ہے، جن کے اثرات نوجوان نسل پر مرتب ہو رہے ہیں، لہٰذا طلبہ تنظیموں کو مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔انجمن طلبہ اسلام نظریہ پاکستان، استحکامِ وطن، نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ اور فروغِ عشقِ رسول ﷺ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی نوجوان سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دیں اور اپنی توانائیاں تعمیری سرگرمیوں میں صرف کریں۔۔۔
