وہاڑی (ملک عامر بشیر سے) سابق ممبر قومی اسمبلی چوہدری طاہر اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ناقص اور کسان دشمن پالیسیوں نے زراعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کسانوں کا معاشی استحصال بند نہ کیا گیا تو ملک میں غذائی قلت کا ایسا طوفان آئے گا جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کسان وفود اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انھوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس حکومت نے گندم کی خریداری کے حوالے سے کسانوں کے ساتھ سنگین مذاق کیا سرکاری نرخوں کے برعکس عام کسان کو باردانہ فراہم نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے محنت کش کسان اپنی فصل 2000 سے 2200 روپے فی من میں اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مجبور ہوا اس معاشی قتل کے نتیجے میں کسان کے پاس کھاد اور بیج کے پیسے بھی نہ بچے، جس کا اثر رواں برس گندم کی کم کاشت کی صورت میں سامنے آیا ہے اب موجودہ سیزن میں حکومت نے 3500 روپے فی من کا نرخ تو مقرر کر دیا ہے، لیکن کسان ایک بار پھر باردانے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی ملی بھگت سے من پسند افراد کو نوازا جا رہا ہے جبکہ عام کاشتکار شدید پریشانی کا شکار ہےچیک پوسٹوں کے نام پر کسانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور گندم کی نقل و حمل روک کر بھاری رشوت وصول کی جا رہی ہے سابق ایم این اے کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف تو خریداری نہیں کر رہی اور دوسری طرف اگر کسان اپنی بقا کے لیے اوپن مارکیٹ کا رخ کرتا ہے تو اسے گرفتاریوں اور بھاری جرمانوں سے ڈرایا جاتا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ گندم کی کاشت میں کمی اور حالیہ بحران کے باعث مستقبل قریب میں ملک میں آٹے کا بدترین بحران پیدا ہو سکتا ہےاس موقع پرچوہدری طاہر اقبال نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے باردانے کی تقسیم کو شفاف بنائے اور کسانوں کو ان کی محنت کا پورا حق دلائے انہوں نے واضح کیا کہ کسان خوشحال ہوگا تو ہی ملک ترقی کرے گا
