لاہور(مبشرمجید مرزا سے) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدرآیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت حوزہ علمیہ جامعة المنتظر ماڈل ٹاو ن میں بنیان مرصوص سیمینارمنعقد ہوا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے افواج پاکستان کی کامیابیوں پر اظہار مسرت کیا اور واضح کیا کہ بھارتی جارحیت کا پاکستان نے دندان شکن جواب دیے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ آپریشن بنیان مرصوص کا نتیجہ تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہوا، گرین پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا۔ مسلم ممالک پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بھارت کے مقابلے میں جو کامیابی افواج پاکستان نے حاصل کی وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو مزید عزت دی کہ امریکہ اور ایران نے باہمی مذاکرات کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا۔ اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے اور اب بھی جو مذاکرات جاری ہیں ،وہ بھی پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھ رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ اور ایران کے مذاکرات کامیاب ہوں گے اور خطے میں امن قائم ہوگا۔مقررین نے واضح کیا کہ فرقہ واریت اورتکفیریت امت کے اتحاد اور ملکی استحکام کے لیے زہر قاتل ہے، اسرائیلی ایجنڈے پر عمل پیرا تکفیری عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امریکہ اور اسرائیل کی طرح تکفیری عناصر بھی ناکام ہوں گے۔ مقررین میں حوزہ علمیہ جامعة المنتظر کے مہتمم اعلیٰ علامہ محمد افضل حیدری، ناظم اعلیٰ علامہ مرید حسین نقوی، جامعہ منہاج الحسین کے پرنسپل علامہ محمد حسین اکبر، چیئرمین پاکستان علماءکونسل مولانا طاہر اشرفی، چیئرمین متحدہ علماءبورڈ پنجاب مولانا انتخاب احمد نوری، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے نائب امیر مولانا سید محمود غزنوی،مولانا محمد باقر گھلو شامل تھے۔مولانا لعل حسین خان توحیدی، مولانا غلام شبیر نجفی، مولانا ضیا ءالحسن نجفی، مولانا سید علی نقوی، مولانا مہدی حسن،شیعہ علماءکونسل کے رہنماصغیر عباس ورک اور دیگر بھی موجود تھے۔ ناظم اعلیٰ حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر علامہ مرید حسین نقوی نے کہابانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ مکتب اہل بیت سے تعلق رکھتے تھے ۔ پاکستان ہمارا وطن ہے، ہم کسی جگہ جانے والے نہیں، ہم اپنے وطن کی مٹی سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے اندر جائیں گے۔ انہوں نے فوج اور حکومت کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مقابلے میں وطن عزیز پاکستان کے دفاع کے لئے جامعہ المنتظر اور وفاق المدارس الشیعہ سے ملحقہ 750 مدارس مملکت کے دفاع کے لیے سب سے آگے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا مودی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ نکال دیں گے۔ ٹرمپ ،نیتن یاہو اور مودی کو شکست دینے والے سادات ہیں۔ چیئرمین پاکستان علماءکونسل مولانا طاہر اشرفی نے کہا فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی کاوشوں نے ایران اور عربوں کی جنگ رکوائی ۔ جبکہ ان کی قیاد ت میں گذشتہ سال بھارتی جارحیت کا جواب جس انداز سے پاکستانی عوام نے دیامودی کسی عالمی کانفرنس میں نہیں جاتا کہ کہیں ٹرمپ پوچھ نہ لیں کہ رافیل طیاروں کا کیا ہوا۔انہوں نے کہا بھارت نے پاکستان میں عبادت گاہوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بنایا، جبکہ پاکستانی افواج کے آپریشن بنیان مرصوص میں کوئی بھارتی سویلین نہیں ماراگیا۔یہ معرکہ حق کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد امن کا مرکز اورہماری فوج مدافع حرمین شریفین بن چکی ہے۔پاکستان کے دفاع میں شیعہ سنی ایک ہیں۔میں قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی سے ملا، انہوں نے کہا پاکستان کے لئے ہم سب ایک ہیں۔ نیتن یاہو کا امت کو تقسیم کا منصوبہ علماءکے اتحاد نے ناکام بنایا۔مسلمانوں میں تقسیم کی باتیں کرنے والے امت اور پاکستان کے مخلص نہیں ہوسکتے۔ایرانی قوم نے اپنی یکجہتی سے امریکی سازش کو ناکام بنایا، نیتن یاہو کے دعووں کے باوجود غزہ بھی موجود اور غزہ والے بھی۔ پرنسپل جامعہ منہاج الحسین علامہ محمد حسین اکبرنے کہا قرآن مجید سے بنیان مرصوص کی اصطلاح استعمال کی گئی۔بنیان مرصوص کو طویل عرصے تک بھارت یاد رہے گا۔وطن سے محبت ایمان ہے جسے کسی پر قربان نہیں کیا جا سکتا ،ایران نے پاکستان پر اعتماد کیا، ہم نے اسے ٹھیس نہیں پہنچائی۔دشمن شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دینے کی سازش کر رہا ہے ، جسے باہمی اتحاد سے ناکام بنائیں گے۔ چیئرمین متحدہ علماءبورڈ پنجاب مولانا انتخاب احمدنوری نے کہا بنیان مرصوص کا پروگرام تجدید عہد ہے،اسلام وحدت کا درس دیتا ہے۔نبی کریم اور صحابہ کرام کی زندگی وحدت کا پیغام ہے ۔ایران پرامریکی اور اسرائیلی بربریت ہوئی تو امت نے وحدت کا مظاہرہ کیا ۔پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نائب امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث مولانا سید محمود غزنوی نے زور دیا کہ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے امت کے تمام طبقات کا اتحاد ضروری ہے، اس مقصد کے لیے فرقہ وارانہ عصبیتوں سے نکل کر امت کے وسیع تر مفاد میں مشترکات کو فروغ دیا جانا ضروری ہے۔ مولانا محمد باقر گھلو نے کہا ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف دنیا بھر کے عوام مظلوم جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر کچھ حکمرانوں کی ذاتی مجبوریاں بھی ہیں تو وہ قابل فہم ہیں۔
