تحریر: محمد سلمان قاسمی، ہومیو پیتھ
مزدور طبقہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ محنت کش لوگ ہیں جو اپنی جسمانی طاقت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے یہی طبقہ بنیادی صحت کی سہولیات سے سب سے زیادہ محروم نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی مشکلات، بیماریوں اور وسائل کی کمی کے گرد گھومتی رہتی ہے، جس کا اثر نہ صرف ان کی ذاتی صحت بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی کا ہے۔ مزدور طبقہ عموماً کم آمدنی کا حامل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مہنگے علاج اور نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی، لمبی قطاریں اور محدود عملہ بھی ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ نتیجتاً مزدور اکثر معمولی بیماریوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ سنگین شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
کام کے حالات بھی مزدوروں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ فیکٹریوں، بھٹوں، کھیتوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے افراد کو اکثر خطرناک ماحول کا سامنا ہوتا ہے۔ دھول، دھواں، کیمیکل اور شور ان کے جسم کو آہستہ آہستہ متاثر کرتے ہیں۔ حفاظتی سامان جیسے دستانے، ماسک اور ہیلمٹ کی عدم دستیابی حادثات اور بیماریوں کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ طویل اوقات کار اور مناسب آرام نہ ملنے سے جسمانی تھکن اور کمزوری بھی بڑھتی ہے۔
غذائی قلت ایک اور اہم مسئلہ ہے جو مزدور طبقے کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ محدود آمدنی کی وجہ سے یہ لوگ اکثر سستی اور کم غذائیت والی خوراک پر گزارا کرتے ہیں۔ متوازن غذا نہ ملنے سے جسم میں ضروری وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ نتیجتاً یہ طبقہ مختلف بیماریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے، جیسے خون کی کمی، کمزوری اور بار بار بیمار ہونا۔
رہائشی حالات بھی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت سے مزدور کچی آبادیوں یا تنگ و تاریک گھروں میں رہتے ہیں جہاں صفائی کا مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ آلودہ پانی، ناقص نکاسی آب اور مچھر و مکھیاں مختلف بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔ ان حالات میں بچوں اور خواتین کی صحت بھی شدید متاثر ہوتی ہے، جس سے ایک صحت مند معاشرے کا خواب مزید دور ہوتا جاتا ہے۔
ذہنی صحت بھی ایک اہم پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ روزگار کا عدم تحفظ، کم اجرت، مہنگائی اور خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ مزدوروں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے چینی، ڈپریشن اور نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ذہنی صحت کے حوالے سے نہ تو آگاہی موجود ہے اور نہ ہی مناسب سہولیات دستیاب ہیں۔
ان مسائل کے حل کے لیے مربوط اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کے لیے سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرے، دیہی اور شہری علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کو فعال بنایا جائے اور مفت یا کم قیمت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کام کی جگہوں پر حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کروانا بھی نہایت ضروری ہے۔
سماجی ادارے اور فلاحی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آگاہی مہمات کے ذریعے مزدوروں کو صفائی، صحت مند خوراک اور ابتدائی طبی امداد کے بارے میں تعلیم دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موبائل میڈیکل کیمپس اور فری چیک اپ پروگرامز کے ذریعے ان تک صحت کی سہولیات پہنچائی جا سکتی ہیں۔
مزدور طبقے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ صاف پانی کا استعمال، مناسب آرام، سادہ مگر متوازن غذا اور حفاظتی سامان کا استعمال ان کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگرچہ وسائل محدود ہیں، مگر شعور اور احتیاط کے ذریعے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ مزدور طبقے کی صحت ایک قومی مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم ایک ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مزدوروں کو صحت مند بنانا ہوگا۔ ان کی بنیادی صحت کی محرومیوں کو دور کرنا صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک صحت مند مزدور ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔
