تحریر: مبشر مجید مرزا، تحقیقاتی صحافی
یکم مئی، جسے یوم مزدور یا انٹرنیشنل ورکرز ڈے کہا جاتا ہے، محنت کشوں کی عالمی یکجہتی کا دن ہے۔ یہ صرف چھٹی کا دن نہیں بلکہ ان لاکھوں مزدوروں کی یادگار ہے جنہوں نے آٹھ گھنٹے کی کام کی مدت، منصفانہ تنخواہ، محفوظ ماحول اور عزت کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ آج جب دنیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس، گیگ اکانومی اور گلوبلائزیشن کے دور سے گزر رہی ہے، یوم مزدور کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
یوم مزدور کی بنیاد 19ویں صدی کے امریکہ میں پڑی۔ 1886 میں شکاگو (Chicago) میں لاکھوں مزدوروں نے 8 گھنٹے کی کام کی مدت کے لیے ہڑتال کی۔ 1 مئی 1886 کو 400,000 سے زائد مزدوروں نے 13,000 کاروباروں میں کام بند کر دیا۔ 4 مئی کو ہے مارکیٹ (Haymarket) اسکوائر میں پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں کئی مزدور اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کو Haymarket Affair کہا جاتا ہے۔
1889 میں پیرس میں دوسری انٹرنیشنل (Second International) کے اجلاس میں 1 مئی کو عالمی مزدوروں کا دن قرار دیا گیا۔ یہ دن آٹھ گھنٹے کی کام کی مدت کے مطالبے کی علامت بن گیا۔ آج دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں یہ سرکاری تعطیل ہے، لیکن امریکہ میں یہ پہلے پیر ستمبر کو Labor Day مناتے ہیں کیونکہ انہیں سوشلسٹ جڑوں سے گریز تھا۔
پاکستان میں یوم مزدور 1970 کی دہائی سے اہمیت اختیار کر گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مزدوروں کو بہت سے حقوق دیے گئے، جن میں انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس شامل تھا۔ آج بھی لالہ موسیٰ، سیالکوٹ، لاہور، ملتان، کراچی اور فیصل آباد جیسے صنعتی شہروں میں ریلیاں اور جلسے ہوتے ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 2024-25 میں عالمی بیروزگاری کی شرح تقریباً 5% رہی، جو مستحکم ہے لیکن کام کے معیار میں بہتری نہیں آئی۔
نوجوانوں میں بیروزگاری 12.3-12.6% کے قریب ہے۔
عالمی سطح پر 9% جابز گیپ (وہ لوگ جو کام کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر پا رہے)۔
کروڑوں مزدور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 2030 تک 170 ملین نئی نوکریاں پیدا ہوں گی مگر 92 ملین ختم بھی ہو جائیں گی۔ AI اور آٹومیشن سب سے بڑا چیلنج ہیں۔
خواتین مزدوروں کی صورتحال بدتر ہے۔ عالمی لحاظ سے خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن کم ہے اور انہیں برابر تنخواہ نہیں ملتی۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے Labour Force Survey 2024-25 کے مطابق: لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ**: 53.9% (2025)۔
بے روزگاری کی شرح تقریباً 6-7.2% (صوبوں کے لحاظ سے مختلف)۔
انفارمل اکانومی 80.4% مزدور انفارمل سیکٹر میں کام کرتے ہیں (کوئی سکیورٹی، پنشن یا مراعات نہیں)۔
فارمل سیکٹر صرف 19.6%
– پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں غیر ہنر مند مزدور کے لیے 40,000 روپے ماہانہ (26 دن)۔
– وفاقی دارالحکومت میں 37,000 روپے۔
– بلوچستان میں نسبتاً کم۔
حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے یہ تنخواہ گزارہ نہیں کرتی۔ ماہانہ اجرت تخمینوں کے مطابق ایک خاندان کے لیے کم از کم 70,000-80,000 روپے درکار ہیں۔ ٹیکسٹائل، تعمیرات، زراعت اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں اوور ٹائم، غیر محفوظ ماحول اور جنسی ہراسانی عام مسائل ہیں۔
پاکستان میں گیگ ورک (فری لانسنگ، رائیڈ شیئرنگ، ڈیلیوری) بڑھ رہی ہے۔ آن لائن گیگ ورک کل روزگار کا 2.9% ہے، مگر زیادہ تر فزیکل پلیٹ فارم بیسڈ (ڈیلیوری وغیرہ)۔ فری لانسرز کو انٹرنیٹ، پیمنٹ اور قانونی تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے۔
2017 کے قریب کراچی میں ایک بڑی ٹیکسٹائل کمپنی میں 32 مزدوروں کو یونین بنانے کی کوشش پر فارغ کر دیا گیا۔ National Trade Union Federation (NTUF) نے مداخلت کی۔ مزدوروں نے ہڑتال کی، فیکٹری تقریباً بند ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں انتظامیہ کو قانون کی پابندی کرنی پڑی، مزدوروں کو مستقل نوکری، اوور ٹائم کی ادائیگی، اور بہتر سہولیات ملیں، یونین رجسٹرڈ ہوئی اور تقریباً 2000 ممبران تک پہنچی۔
یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ منظم جدوجہد سے تبدیلی ممکن ہے۔ ILO کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ایسے کئی اچھے مثالیں ہیں جہاں کولیکٹیو بارگیننگ سے تنخواہوں میں 10-35% اضافہ، بونس، اور صحت سہولیات ملیں
دوسری طرف بلدیہ فیکٹری میں آگ لگانے کے کیس میں 260 سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے۔ جرمن خریداروں سے معاوضہ دلانے کی مہم نے عالمی سطح پر توجہ مبذول کی مگر مقامی سطح پر حفاظتی معیار اب بھی ناکافی ہیں۔
80% مزدور بغیر تحفظ کے، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ میں نوکریاں کم ہونے کا خطرہ،
دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی، رہائش اور صحت کے مسائل، کم اجرت، گھر اور کام کا ڈبل بوجھ، زرعی مزدوروں پر براہ راست اثر (سیلاب، خشک سالی)۔
کم سے کم اجرت کو Living Wage سے جوڑنا ضروری اور سالانہ مہنگائی میں اضافے کے مطابق خود بخود ایڈجسٹ کریں، الگ ریگولیٹری فریم ورک، سوشل سیکیورٹی، اور ہیلتھ انشورنس، ٹریڈ یونینز کو مضبوط کریں، خاص طور پر SME سیکٹر میں، TVET پروگراموں کو AI، گرین جابز اور ڈیجیٹل سکلز پر فوکس۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی ہے، اگر مزدوروں کو بااختیار بنایا جائے تو معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے۔
یکم مئی صرف یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ عمل کرنے کا دن ہے۔ مزدور نہ صرف معیشت کے انجن ہیں بلکہ معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جب تک ایک مزدور بھی بھوکا سوئے گا، ترقی ادھوری رہے گی۔
ہمیں چاہیے کہ یوم مزدور کو صرف جلسوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ پالیسیاں بنائیں، قوانین نافذ کریں اور سب سے بڑھ کر احترام دیں۔ کیونکہ "مزدور کی عزت، قوم کی عزت ہے”۔
