بورےوالا( آصف علی سے )کے نواحی گاؤں 41 کے بی میں پیش آنے والے لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والے واقعے نے نہ صرف علاقے بلکہ پورے ضلع وہاڑی کو سوگوار اور غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک بدبخت اور سفاک شخص کی جانب سے اپنی ہی تین حقیقی بیٹیوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کے انکشاف نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہےذرائع کے مطابق مبینہ ملزم، جس کی شناخت ریاض کے نام سے ہوئی ہے، گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے اپنی 14 سالہ، 11 سالہ اور 9 سالہ معصوم بیٹیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ملزم 9 سالہ بچی کے ساتھ بدفعلی جیسے گھناؤنے جرم میں بھی ملوث رہا، جو انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہےیہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب بچیوں کی والدہ کو شک ہوا اور بعد ازاں حقائق سامنے آنے پر اس نے ہمت کرتے ہوئے تھانہ فتح شاہ میں کاروائی کا مطالبہ کیا ماں کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے نے اس لرزہ خیز کہانی کو بے نقاب کیا، جسے سن کر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل لرز اٹھامقامی افراد کے مطابق بچیاں شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار رہیں، مگر خوف اور دباؤ کے باعث خاموش رہنے پر مجبور تھیں۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شہریوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیاعوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے درندہ صفت افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، اگر انہیں فوری اور عبرتناک سزا نہ دی گئی تو معاشرے میں ایسے جرائم کا سدباب ممکن نہیں ہوگا شہریوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کو فوری بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور متاثرہ بچیوں کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائےدوسری جانب تھانہ فتح شاہ پولیس نے متاثرہ بچیوں کی والدہ کی مدعیت میں ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی، جبکہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن قانونی و سماجی معاونت فراہم کی جا رہی ہے
سماجی رہنماوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے نہ صرف سخت قوانین بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات، تعلیمی اصلاحات اور گھریلو سطح پر نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسی المناک صورتحال سے بچا جا سکےیہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچائیں، تاکہ معصوم جانوں کو درندگی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے
