تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
تھیلیسیمیا ایک موروثی (پیدائشی) خون کی بیماری ہے جو دنیا بھر خصوصاً پاکستان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری میں جسم مناسب مقدار میں ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا، جو خون کے سرخ خلیوں میں آکسیجن لے جانے کا اہم جزو ہے۔ نتیجتاً مریض کو شدید کمزوری، خون کی کمی اور دیگر پیچیدگیاں لاحق ہوتی ہیں۔ یہ بیماری والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، یعنی اگر دونوں والدین اس کے کیریئر ہوں تو بچے میں بیماری پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی نمایاں اقسام میں تھیلیسیمیا میجر، جو شدید نوعیت کی ہوتی ہے، اور تھیلیسیمیا مائنر، جو نسبتاً ہلکی ہوتی ہے، شامل ہیں۔
ہر سال World Thalassemia Day یعنی 08 مئی کو دنیا بھر میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا، مریضوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور اس بیماری کی روک تھام کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ مختلف ادارے سیمینارز، واکس اور فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو بروقت ٹیسٹ اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
تھیلیسیمیا کی بنیادی وجہ جینیاتی خرابی ہے، جس میں ہیموگلوبن بنانے والے جین متاثر ہوتے ہیں۔ اگر والدین دونوں اس بیماری کے کیریئر ہوں تو ہر بچے میں تقریباً 25 فیصد امکان ہوتا ہے کہ وہ تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہو۔ پاکستان میں قریبی رشتہ داروں میں شادی اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ آگاہی کی کمی اور شادی سے پہلے اسکریننگ ٹیسٹ نہ کروانا بھی اہم عوامل ہیں، جس کے باعث یہ بیماری نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔
اس بیماری کی علامات عموماً بچپن میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، خاص طور پر شدید کیسز میں۔ مریض میں شدید کمزوری، تھکن، رنگت کا پیلا یا زرد ہو جانا، سانس کا پھولنا، بار بار بخار یا انفیکشن، پیٹ کا بڑھ جانا (جگر اور تلی کے بڑھنے کی وجہ سے)، ہڈیوں کی کمزوری اور بعض اوقات چہرے کی ساخت میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ بچوں کی جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ تھیلیسیمیا مائنر میں اکثر علامات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور مریض کو اپنی بیماری کا علم بھی نہیں ہوتا۔
چونکہ یہ ایک موروثی بیماری ہے، اس لیے اس سے بچاؤ ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کیریئر افراد کی شناخت ہو سکے۔ اگر دونوں افراد کیریئر ہوں تو انہیں شادی سے پہلے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ حمل کے دوران بھی مخصوص ٹیسٹ کے ذریعے بچے کی حالت معلوم کی جا سکتی ہے۔ معاشرے میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور قریبی رشتہ داروں میں شادی سے حتی الامکان پرہیز کرنا بھی اہم احتیاطی اقدامات ہیں۔
علاج کے حوالے سے جدید ایلوپیتھک طریقہ سب سے زیادہ مستند اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں مریض کو باقاعدگی سے خون کی منتقلی دی جاتی ہے تاکہ ہیموگلوبن کی کمی پوری کی جا سکے۔ تاہم بار بار خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے کم کرنے کے لیے آئرن چیلیشن تھراپی دی جاتی ہے۔ کچھ کیسز میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے، جو مکمل علاج کا امکان فراہم کرتا ہے، لیکن یہ مہنگا اور پیچیدہ طریقہ ہے۔ اس کے ساتھ فولک ایسڈ اور دیگر معاون ادویات بھی دی جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھک نقطہ نظر میں اس بیماری کا مکمل علاج تو ممکن نہیں، لیکن مریض کی عمومی صحت بہتر بنانے، قوتِ مدافعت بڑھانے اور کمزوری کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ علامات کے مطابق انفرادی ادویات دی جاتی ہیں اور بعض معالجین کے مطابق اس سے خون لگوانے کے وقفے میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔ تاہم یہ بات ضروری ہے کہ ہومیوپیتھی کو صرف معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جائے اور بنیادی ایلوپیتھک علاج کو ترک نہ کیا جائے۔
طبِ یونانی اور دیسی طریقہ علاج میں بھی اس بیماری کے لیے مختلف جڑی بوٹیوں اور غذائی نسخوں کا استعمال کیا جاتا ہے جن کا مقصد خون کی کمی کو کم کرنا، جگر اور تلی کو مضبوط بنانا اور جسمانی طاقت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ طریقے بھی بنیادی علاج کا متبادل نہیں بلکہ صرف مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
غذا اور طرزِ زندگی میں خاص احتیاط ضروری ہے۔ چونکہ مریض کے جسم میں آئرن کی مقدار بڑھ سکتی ہے، اس لیے آئرن سے بھرپور غذا کے استعمال میں احتیاط کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس فولک ایسڈ والی غذائیں، تازہ پھل، سبزیاں اور دودھ مفید ہوتے ہیں۔ مریض کو انفیکشن سے بچانا، باقاعدہ طبی معائنہ کروانا اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
مجموعی طور پر تھیلیسیمیا ایک سنجیدہ مگر قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اس کا سب سے مؤثر حل احتیاط اور بروقت تشخیص ہے۔ اگر معاشرے میں شادی سے پہلے سادہ خون کے ٹیسٹ کو لازمی بنا دیا جائے تو اس بیماری کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی علامت کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ جدید طبی علاج کو بنیاد بنا کر اور دیگر طریقہ ہائے علاج کو معاون کے طور پر استعمال کر کے مریض کی زندگی کو بہتر اور نسبتاً آسان بنایا جا سکتا ہے۔
