تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
ملیریا ایک قابلِ علاج مگر خطرناک بیماری ہے جو آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ ہر سال 25 اپریل کو World Malaria Day منایا جاتا ہے تاکہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی دی جا سکے اور اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کی جا سکیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مرض اب بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، مگر بروقت تشخیص، درست علاج اور احتیاطی تدابیر سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ملیریا دراصل ایک متعدی بیماری ہے جو Anopheles mosquito کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اس مچھر کے ذریعے انسانی جسم میں Plasmodium parasite داخل ہوتا ہے جو پہلے جگر اور پھر خون کے سرخ خلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ مچھر عموماً رات کے وقت زیادہ سرگرم ہوتا ہے اور کھڑے یا گندے پانی میں افزائش پاتا ہے، اسی لیے صفائی کی کمی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔
ملیریا کی علامات عام طور پر 7 سے 14 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ مریض کو اچانک تیز بخار ہوتا ہے، شدید سردی لگتی ہے اور کپکپی طاری ہو جاتی ہے، اس کے بعد پسینہ آتا ہے اور وقتی طور پر بخار اتر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سر درد، جسم میں درد، متلی، قے اور شدید کمزوری بھی عام علامات میں شامل ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری شدت اختیار کر لیتی ہے جس میں بے ہوشی، سانس میں دشواری، خون کی کمی اور دورے پڑنے جیسی علامات سامنے آتی ہیں، جو فوری طبی امداد کی متقاضی ہوتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ملیریا سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے اردگرد پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے کیونکہ یہی مچھروں کی افزائش کا بنیادی ذریعہ ہے۔ گھروں اور گلیوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے، نالیوں کو بند یا گندا نہیں ہونے دینا چاہیے، اور پانی کے ٹینکوں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ ذاتی تحفظ کے لیے مچھر دانی کا استعمال نہایت مؤثر ہے، خاص طور پر رات کے وقت سوتے ہوئے۔ اس کے علاوہ مچھر بھگانے والی ادویات، اسپرے اور مکمل بازو والے کپڑے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ملیریا کا علاج ممکن ہے لیکن اس کے لیے بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ جیسے ہی علامات ظاہر ہوں، فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ تشخیص کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جس میں Malaria Parasite Test (MP Test) یا Rapid Diagnostic Test (RDT) شامل ہیں۔ ان ٹیسٹوں کے ذریعے Plasmodium parasite کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر علاج شروع کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مکمل دوا کا کورس کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ ادھورا علاج بیماری کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے یا اسے مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
ملیریا کے بارے میں معاشرے میں کئی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بیماری صرف گندے پانی سے ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ مچھر کے ذریعے پھیلتی ہے۔ کچھ افراد بخار کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ ملیریا ایک بار ہو جائے تو دوبارہ نہیں ہوتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماری بار بار ہو سکتی ہے۔ دیسی ٹوٹکوں پر انحصار بھی ایک عام غلطی ہے، جبکہ اس کا مؤثر علاج صرف مستند طبی طریقوں سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان میں ملیریا خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں صفائی کے مسائل اور طبی سہولیات کی کمی ہوتی ہے۔ برسات کے موسم میں اس بیماری کے کیسز میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ پانی جمع ہو جاتا ہے جو مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے اس موسم میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ملیریا ایک ایسا مرض ہے جسے ہم اپنی تھوڑی سی توجہ، صفائی اور بروقت علاج کے ذریعے شکست دے سکتے ہیں۔ World Malaria Day ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہے۔ آگاہی، احتیاط اور بروقت علاج ہی اس کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔
