تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
انسانی زندگی کا حسن صحت و تندرستی سے وابستہ ہے۔ جب جسمانی توازن برقرار رہے تو انسان زندگی کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھا سکتا ہے، لیکن جب یہی توازن بگڑنے لگے تو مختلف امراض انسان کے وجود کو اپنی گرفت میں لینے لگتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جن بیماریوں نے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت کو فکرمند کر رکھا ہے ان میں سرفہرست مرض Diabetes Mellitus ہے جسے عرفِ عام میں شوگر یا ذیابیطس کہا جاتا ہے۔
بظاہر یہ ایک عام بیماری محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا خاموش عارضہ ہے جو آہستہ آہستہ انسانی جسم کے اہم نظاموں کو متاثر کرتا چلا جاتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری انسان کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انسانی جسم میں خون میں موجود شکر کو متوازن رکھنے کے لیے ایک نہایت اہم ہارمون Insulin کارفرما ہوتا ہے جو لبلبہ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ خون میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیوں تک پہنچا کر اسے توانائی میں تبدیل کرے۔ جب کسی وجہ سے انسولین کی مقدار کم ہو جائے یا جسم اس کے اثر کو مؤثر انداز میں قبول نہ کرے تو خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور یہی کیفیت شوگر کہلاتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دباؤ نے اس بیماری کو خطرناک حد تک عام بنا دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت World Health Organization کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ سے زائد بالغ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ بیس سے پچیس ہزار کے قریب بچے اور نوجوان بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ شوگر اب محض عمر رسیدہ افراد کی بیماری نہیں رہی بلکہ نوجوان نسل بھی اس کی زد میں آ رہی ہے۔
شوگر کی علامات
شوگر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی علامات ہر مریض میں یکساں طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ بعض افراد میں یہ علامات واضح اور نمایاں ہوتی ہیں جبکہ بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں شوگر کا لیول خاصا بڑھ جانے کے باوجود بظاہر کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی بنا پر اسے اکثر خاموش بیماری بھی کہا جاتا ہے۔
عام طور پر درج ذیل علامات اس بیماری کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
بار بار پیشاب آنا
غیر معمولی پیاس کا شدت کے ساتھ محسوس ہونا
منہ کا خشک رہنا
قبض کی شکایت
جسم کے مختلف حصوں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
معدے کی خرابی اور بدہضمی
جگر کی کمزوری
جسم میں درد اور غیر معمولی تھکاوٹ
نیند کا متاثر ہونا یا بے خوابی
مزاج میں چڑچڑاہٹ اور غصے میں اضافہ
سانس کا پھول جانا
میٹھا کھانے کی غیر معمولی خواہش
ان علامات کے ساتھ بعض مریضوں میں بھوک کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ مریض بار بار کھانے کے باوجود بھی پیٹ کے خالی ہونے کا احساس محسوس کرتا ہے اور کبھی کبھی ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ ناقابلِ برداشت بھوک ستانے لگتی ہے۔ طبّی اصطلاح میں اس کیفیت کو Polyphagia کہا جاتا ہے جو شوگر کی اہم علامات میں شمار ہوتی ہے۔
شوگر کی خطرناک پیچیدگیاں
اگر شوگر طویل عرصے تک قابو میں نہ رہے تو یہ انسانی جسم کے نہایت اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
گردوں کی خرابی
مسلسل بلند شوگر لیول گردوں کی باریک خون کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں Kidney Failure جیسی خطرناک بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض مریضوں کو بعد ازاں ڈائیلاسز یا گردہ تبدیل کروانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
دل کی بیماریاں
شوگر خون کی نالیوں کو متاثر کر کے دل کی بیماریوں کے خطرات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں Heart Attack جیسی مہلک کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
زخموں کا نہ بھرنا اور گینگرین
شوگر کے مریضوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ معمولی زخم بھی دیر تک مندمل نہیں ہوتے۔ خون کی روانی میں کمی کے باعث زخم بگڑنے لگتے ہیں اور بعض اوقات یہ کیفیت Gangrene میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اس حالت میں متاثرہ عضو کے ٹشوز مرنے لگتے ہیں اور بعض اوقات مریض کی جان بچانے کے لیے متاثرہ عضو کو کاٹنا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شوگر کے مریضوں کو خاص طور پر پاؤں کی حفاظت کی سختی سے تلقین کی جاتی ہے۔
شوگر لیول بڑھنے کی وجوہات
شوگر کے بڑھنے کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، مگر مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ان میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
زندگی کے مختلف حادثات اور مشکلات انسان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتے ہیں جیسے:
معاشی مسائل
عزیزوں کی اموات
کاروباری نقصانات
ناکام محبت
نافرمان اولاد
گھریلو ناچاقیاں
یہ تمام عوامل انسان کو شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیتے ہیں جو بالآخر شوگر لیول میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ چند دیگر عوامل بھی اس بیماری کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں:
میٹھے اور چکنائی والی غذاؤں کا زیادہ استعمال
کولڈ ڈرنکس اور غیر صحت مند غذا
معدے کی مسلسل خرابی
جگر کے امراض خصوصاً یرقان
موروثی عوامل
دورانِ حمل شوگر کا بڑھ جانا
علاج سے پہلے اصل سبب کی تشخیص
شوگر کے علاج میں سب سے اہم مرحلہ اس بیماری کے اصل سبب کی درست تشخیص ہے۔ جب تک مرض کی جڑ تک رسائی حاصل نہ کی جائے علاج اکثر غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے انسولین استعمال کرتے ہیں اور مختلف ادویات بھی لیتے ہیں مگر اس کے باوجود شوگر قابو میں نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بیماری کے اصل محرک کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
احتیاط — صحت مند زندگی کی بنیاد
شوگر سے بچاؤ اور اس کے کنٹرول کے لیے چند بنیادی اصول نہایت ضروری ہیں:
متوازن غذا کا استعمال
میٹھے اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز
روزانہ چہل قدمی یا ورزش
ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش
وزن کو متوازن رکھنا
باقاعدہ طبی معائنہ کروانا
اختتامیہ
شوگر بلاشبہ ایک سنجیدہ اور پیچیدہ بیماری ہے، مگر یہ ناقابلِ علاج نہیں۔ اگر بروقت تشخیص، مناسب علاج، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنایا جائے تو اس بیماری کو بڑی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ صحت انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک انمول نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت ہی ایک پُرسکون، متوازن اور باوقار زندگی کی ضمانت ہے۔
