تحریر: مبشر مجید
پاکستان میں موسمِ سرما کبھی اپنی خنکی، دھند اور شمالی علاقوں کی خوبصورت برفباری کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ سردیوں کی یہ پہچان نہ صرف موسم کی حد تک تھی بلکہ ہماری زراعت، پانی کے ذخائر اور روزمرہ زندگی بھی اسی ترتیب کے مطابق ڈھلی ہوئی تھی۔ مگر گزشتہ چند برسوں سے سردیوں کا وہ مانوس انداز آہستہ آہستہ بدلتا جا رہا ہے، اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
آج ہم ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جہاں سردیاں نہ پہلے جیسی سرد رہیں اور نہ ہی قابلِ پیش گوئی۔ کہیں غیر معمولی حد تک گرم موسم ہے تو کہیں اچانک شدید بارشیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ رکھتے ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ یہی بھگت رہے ہیں۔ موسمِ سرما میں درجہ حرارت کا بڑھ جانا، بارشوں کا غیر یقینی ہونا اور شمالی علاقوں میں برفباری میں کمی اس کی واضح مثالیں ہیں۔
سردیوں کا گرم ہونا بظاہر کچھ لوگوں کے لیے سہولت کا باعث ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج گہرے اور طویل المدت ہیں۔ گندم جیسی اہم فصل، جو سرد موسم اور بروقت بارش کی محتاج ہوتی ہے، متاثر ہو رہی ہے۔ کسانوں کو زیادہ آبپاشی کی ضرورت پڑ رہی ہے، جس سے پہلے ہی محدود آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
شمالی علاقوں میں برفباری میں کمی ایک اور تشویشناک پہلو ہے۔ یہی برف گلیشیئرز کو مضبوط رکھتی ہے اور یہی گلیشیئرز ہمارے دریاؤں کو زندگی بخشتے ہیں۔ جب برف کم پڑے اور گلیشیئر تیزی سے پگھلیں تو کبھی شدید سیلاب اور کبھی پانی کی قلت ہمارا مقدر بن جاتی ہے۔ یہ مسئلہ محض قدرتی نہیں بلکہ معاشی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔
سردیوں میں بڑھتا ہوا اسموگ بھی اسی موسمیاتی بگاڑ کا حصہ ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہر ہر سال ایک زہریلی دھند کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ گرم سردیاں، فضائی آلودگی اور ہوا کے رک جانے کا امتزاج انسانی صحت کے لیے خاموش قاتل ثابت ہو رہا ہے۔
ان تمام مسائل کی وجوہات میں عالمی حدت کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی کوتاہیاں بھی شامل ہیں۔ بے تحاشا جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، آلودگی اور توانائی کے غیر محتاط استعمال نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی سنجیدگی سے سوچنے کو تیار ہیں؟
حل موجود ہیں، مگر ان کے لیے اجتماعی شعور اور مستقل مزاجی درکار ہے۔ شجرکاری محض مہم نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کی طرف سنجیدہ پیش رفت، پانی کے بہتر انتظام اور زراعت میں موسمیاتی ہم آہنگی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔
سب سے بڑھ کر، موسمیاتی تبدیلی کو محض حکومتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی مسئلہ تسلیم کرنا ہوگا۔ جب تک عام شہری توانائی کے استعمال، پانی کی بچت اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گا، کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
بدلتی ہوئی سردیاں ہمیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے وقت بہت کم اور ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔
