تحریر: مبشر مجید مرزا
ہر شہر کی صبح کا آغاز ان کے کام سےہوتا ہے، مگر ان کا نام کسی کو یاد نہیں رہتا۔ سویپر، سیورمین، مین ہول میں اترنے والے کارکن ، یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری گلیوں، سڑکوں اور نالیوں کو صاف رکھتے ہیں تاکہ باقی شہر بیماریوں سے محفوظ رہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ صفائی کا نظام چلاتے ہیں، انہیں خود معاشرے میں سب سے نچلا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ روزمرہ گفتگو میں تحقیر آمیز رویہ رکھا جاتا ہے، انہیں اکثر مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر الگ تھلگ کیا جاتا ہے، اور جب وہ گٹر یا سیوریج لائن کی صفائی کے لیے زمین کے اندر اترتے ہیں تو کئی بار زندہ واپس نہیں آتے۔
پاکستان میں صفائی کا پیشہ تاریخی طور پر معاشرے کے سب سے پسے ہوئے طبقوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ زیادہ تر سیورمین اور صفائی کے کارکن مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً سوا فیصد ہیں۔ ملازمت کے اشتہارات میں اکثر واضح طور پر لکھا جاتا رہا ہے کہ صرف مسیحی درخواست دہندگان درکار ہیں، گویا صفائی کا کام کسی خاص مذہبی گروہ کی "ذمہ داری” ہو۔ یہ رویہ نہ صرف امتیازی ہے بلکہ اس نے پوری برادری کو معاشی طور پر ایک ہی پیشے میں محصور کر دیا ہے، جہاں سے نکلنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
معاشرتی سطح پر ان کارکنوں کے ساتھ چھونے، سلام کرنےاور ساتھ بیٹھنے سے گریز جیسے رویے آج بھی عام ہیں۔ انہیں کم اجرت دی جاتی ہے، بروقت تنخواہ نہیں ملتی، اور اکثر کوٹھیکیداری نظام کے تحت رکھا جاتا ہے تاکہ ادارے ان کی حفاظت اور بہبود کی براہ راست ذمہ داری سے بچ سکیں۔ دسمبر دو ہزار پچیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے صفائی کے اشتہارات میں "صرف مسیحی درکار ہیں” جیسے الفاظ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی اور تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ امتیازی زبان ختم کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ رویہ آئین میں دیے گئے مساوات اور وقار کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پاکستان میں سیوریج لائنوں کی صفائی کے دوران زہریلی گیس سے کارکنوں کی اموات کوئی انوکھا واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل، تقریباً معمول کا سلسلہ بن چکی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے چند واقعات اس کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ ستمبر دو ہزار پچیس میں کراچی کے علاقے گارڈن میں باپ بیٹے سمیت تین کارکن مین ہول میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہو گئے، جن میں ایک بچانے کی کوشش کرنے والا شخص بھی شامل تھا۔ اسی مہینے کراچی کے ایک اور علاقے میں چار کارکن، جن میں ایک باپ اور اس کا بیٹا شامل تھے، اسی طرح گٹر میں اتر کر جان سے گئے۔ نومبر 2025 تک ادارہ برائے انسانی حقوق کے مطابق 1888سے اب تک کم از کم70 مسیحی صفائی کارکن زہریلی گیسوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
مئی 2026 میں صرف چند ہفتوں کے دوران کم از کم 6 مسیحی صفائی کارکن مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔ ساہیوال میں دو کارکن بغیر کسی حفاظتی سامان کے مین ہول میں اتر کر ہلاک ہوئے، جبکہ فیصل آباد میں ایک 33 سالہ کارکن، جو تین بچوں کا باپ تھا، پچیس فٹ گہری سیوریج لائن میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث چل بسا۔ اطلاعات کے مطابق اسے دو ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، جس کی وجہ سے وہ حفاظتی سامان کے بغیر کام پر مجبور تھا۔ جون 2026میں فیصل آباد کی ایک صنعتی بستی میں چار مزدور سیوریج لائن کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ جولائی 2026 میں چشتیاں میں میونسپل کمیٹی کے دو ملازمین اسی طرح ہلاک ہوئے، اور مقامی افراد کا الزام تھا کہ ریسکیو اداروں کا ردعمل بھی نہایت سست تھا۔

ان تمام واقعات میں ایک بات مشترک ہے: کارکن بغیر آکسیجن سلنڈر، گیس ڈیٹیکٹر، حفاظتی لباس یا کسی بنیادی تربیت کے گہرے، تنگ اور بند مین ہولز میں اتارے جاتے ہیں۔ سیوریج لائنوں میں میتھین اور ہائیڈروجن سلفائیڈ جیسی گیسیں جمع ہو جاتی ہیں، جو چند سانسوں میں ہی انسان کو بےہوش کر کے موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر ایک کارکن کی موت کے بعد اسے بچانے کی کوشش میں دوسرا اور تیسرا کارکن بھی اسی گیس کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ نہ تو انہیں مناسب آلات دیے جاتے ہیں اور نہ ہی درست طریقہ کار سکھایا جاتا ہے۔
اس سوال کا جواب دلچسپ بھی ہے اور تکلیف دہ بھی ، قانون کسی حد تک موجود ہے، مگر عمل درآمد تقریباً صفر ہے۔ سندھ آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017 کے تحت ایمپلائر پر لازم ہے کہ وہ صفائی کے کارکنوں کو ذاتی حفاظتی سامان یعنی دستانے، ماسک، گیس ڈیٹیکٹر اور مناسب تربیت فراہم کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر کارکن بغیر دستانوں اور ماسک کے، محض بانس کی لمبی چھڑیوں کے ساتھ نالیاں صاف کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور جب یہ کام نہ بنے تو وہ خود مین ہول میں اتر جاتے ہیں۔
دسمبر 2025 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں نہ صرف امتیازی اشتہارات پر پابندی لگائی بلکہ حکومت کو ہدایت دی کہ سیوریج کارکنوں کی حفاظت کے لیے فوری اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے وزارت قانون و انصاف کو حکم دیا کہ موجودہ قوانین میں ترمیم کی جائے یا نیا قانون بنایا جائے تاکہ سیوریج کارکنوں کے حقوق، حفاظت، معاوضے اور انشورنس کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی قوم اپنے شہریوں کو بنیادی حفاظتی سہولیات کے بغیر خطرناک حالات میں کام پر مجبور کر کے ترقی نہیں کر سکتی۔
نومبر 2025 میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک تاریخی آئینی درخواست دائر کی، جس میں مکمل طور پر دستی سیوریج صفائی پر پابندی اور یکساں قومی حفاظتی ضابطے کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن نے میڈیا کو بتایا کہ گٹروں کی دستی صفائی ایک وحشیانہ اور غیر انسانی عمل ہے اور کسی بھی شخص کی جان کو ایسے کام کے لیے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے جو دراصل انسانی ہاتھوں سے سرانجام ہی نہیں دیا جانا چاہیے۔ سماعت کے دوران ہی یہ انکشاف ہوا کہ عدالت میں پیشی سے محض ایک روز قبل سندھ میں ایک اور کارکن اسی طرح گٹر میں جان کی بازی ہار چکا تھا۔
یہ سوال دراصل پورے مسئلے کی جڑ ہے کہ قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عمل کیوں نہیں کرایا جاتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مالی ہے: بلدیاتی ادارے اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹیز اکثر شدید مالی بحران کا شکار ہوتے ہیں، اور حفاظتی سامان کی خریداری کو ترجیح کے بجائے ایک اضافی خرچ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری وجہ ٹھیکیداری نظام ہے: بہت سے کارکن مستقل ملازم نہیں بلکہ روزانہ یا ماہانہ اجرت پر رکھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کوئی بھی ادارہ خود کو ان کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار نہیں سمجھتا اور ذمہ داری ٹھیکیدار پر ڈال دی جاتی ہے، جو مزید سستے داموں کام نکلوانے کی کوشش کرتا ہے۔
تیسری اور شاید سب سے گہری وجہ سماجی ہے: چونکہ یہ کارکن معاشرتی طور پر پہلے ہی حاشیے پر دھکیلی گئی ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کی زندگیوں کو ریاستی ترجیحات میں وہ اہمیت نہیں ملتی جو کسی اور طبقے کو ملتی۔ ایک مرتبہ جب تین سیوریج کارکن زہریلی گیس سے ہلاک ہوئے تو ان کی جانوں کا مجموعی معاوضہ اتنا کم مقرر کیا گیا کہ ہر جان کی قیمت انتہائی معمولی رقم کے برابر ٹھہری۔ یہ رویہ خود بتاتا ہے کہ نظام میں ان کارکنوں کی جان کتنی سستی سمجھی جاتی ہے۔چوتھی وجہ نگرانی اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ قانون میں سزا کی شقیں موجود ہیں، مگر شاذ و نادر ہی کسی افسر یا ٹھیکیدار کو حادثے کے بعد سنجیدہ قانونی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ عموماً ایک نچلے درجے کے اہلکار کو معطل کر کے اور تحقیقاتی کمیٹی بنا کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ پانچویں وجہ تکنیکی ہے: صفائی کی مشینری، جیسے سکشن مشینیں یا روبوٹ، صرف بڑے شہروں کے محدود علاقوں میں دستیاب ہیں، اور چھوٹے شہروں و قصبوں میں آج بھی انسانی ہاتھ ہی واحد "ٹیکنالوجی” ہیں۔
بھارت میں بھی صفائی کی روایت صدیوں پرانے ذات پات کے نظام سے جڑی ہوئی ہے، اور وہاں بھی یہ کام بنیادی طور پر دلت برادری سے تعلق رکھنے والوں کے ذمے رہا ہے۔ تاہم بھارت نے قانونی سطح پر پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ پیش رفت کی ہے۔ 1993 میں پہلی بار "خشک بیت الخلا کی تعمیر اور دستی صفائی کے ملازمین کی روک تھام کا ایکٹ” منظور کیا گیا، لیکن اس پر عمل درآمد کمزور رہا۔ 2013میں ایک زیادہ جامع قانون منظور کیا گیا جس کے تحت نہ صرف دستی صفائی بلکہ حفاظتی سامان کے بغیر گٹر اور سیپٹک ٹینک کی صفائی بھی ممنوع قرار دی گئی، اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے مالی امداد، رہائش اور تعلیم جیسی مراعات کا وعدہ کیا گیا۔
2014میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا کہ دستی صفائی آئین کے تحت مساوات اور زندگی کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ 2023میں عدالت نے دوبارہ اس قانون کی مسلسل خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کی اور گٹر میں ہونے والی ہر موت کے لیے معاوضے کی رقم 30 لاکھ روپے تک بڑھا دی۔ جنوری 2025میں سپریم کورٹ نے 6 بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں دستی صفائی اور سیوریج کی بغیر مشین صفائی پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے جولائی 2023میں "نمستے” کے نام سے ایک قومی منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد سیوریج صفائی کو مکینائز کرنا، کارکنوں کی شناخت اور بحالی کرنا، اور انہیں حفاظتی سامان اور طبی انشورنس فراہم کرنا ہے۔ اگست 2025تک اس منصوبے کے تحت 85 ہزار کے قریب سیوریج اور سیپٹک ٹینک کارکنوں کی شناخت کی جا چکی تھی اور 45 ہزار سے زائد حفاظتی کٹس تقسیم کی جا چکی تھیں۔ ریاست کیرالہ میں "بینڈی کوٹ” نامی روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو انسانوں کے بغیر گٹروں کی صفائی کر سکتا ہے، اور یہ منصوبہ دیگر ریاستوں میں بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ اگرچہ بھارت میں بھی یہ عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، مگر واضح قانونی فریم ورک، عدالتی دباؤ، اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نے صورتحال میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے، جو پاکستان میں تاحال مکمل طور پر غائب ہے۔
اگر پاکستان کا موازنہ ترقی یافتہ ممالک سے کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مریکہ، برطانیہ، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سیوریج کی صفائی کا تصور ہی مختلف ہے۔ امریکہ میں پیشہ ورانہ صحت و حفاظت کا ادارہ "اوشا” سخت ضابطے نافذ کرتا ہے جنہیں "کنفائنڈ سپیس پروٹوکول” کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت کسی بھی بند اور تنگ جگہ، جیسے گٹر یا ٹینک، میں داخل ہونے سے پہلے گیس کی سطح ماپنا، اجازت نامہ حاصل کرنا، اضافی عملے کی موجودگی، اور مکمل حفاظتی سامان لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی کام روبوٹ یا مشین کے ذریعے مکمل ہو سکتا ہو تو انسان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
جاپان میں سیوریج لائنوں کے معائنے اور دیکھ بھال کے لیے خصوصی قانون کے تحت ہر پانچ سال بعد لازمی معائنہ کیا جاتا ہے، اور اس مقصد کے لیے خودکار روبوٹ اور کیمرہ نظام استعمال ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں "سکاٹش واٹر” جیسے ادارے ڈرونز اور لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے سیوریج نظام کا جائزہ لیتے ہیں، جس سے انسانی کارکنوں کو ان تنگ جگہوں میں جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی جہاں انسان نہیں پہنچ سکتے۔ ان ممالک میں گیس کا پتہ لگانے والے آلات، ریموٹ کنٹرول کیمرے، اور خودکار صفائی مشینیں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ انسان کا براہ راست گٹر میں اترنا اب کسی اہم ترین صورتحال میں ہی ہوتا ہے، وہ بھی مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ مسئلہ وسائل سے زیادہ ترجیحات کا ہے ، جہاں انسانی جان کو ترجیح دی گئی، وہاں ٹیکنالوجی نے اس کی جگہ لے لی۔
پاکستان میں اس مسئلے کا حل کئی سطحوں پر بیک وقت کام کرنے سے ہی ممکن ہے۔ سب سے پہلے، اسلام آباد ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں زیر التوا مقدمات کے نتیجے میں ایک مربوط قومی قانون کی تشکیل ضروری ہے جو تمام صوبوں پر یکساں طور پر لاگو ہو، نہ کہ صرف سندھ جیسے ایک صوبے کے قانون تک محدود رہے۔ دوسرا، بلدیاتی اداروں کو سکشن مشینوں اور روبوٹک آلات کی خریداری کے لیے مخصوص بجٹ مختص کرنا ہو گا، جیسا کہ بھارت کی "نمستے” اسکیم میں کیا گیا ہے۔ تیسرا، ٹھیکیداری نظام کے بجائے کارکنوں کو مستقل ملازمت، بروقت تنخواہ، صحت انشورنس اور حادثے کی صورت میں مناسب معاوضہ یقینی بنایا جانا چاہیے۔چوتھا اور شاید سب سے اہم نکتہ سماجی رویے کی تبدیلی ہے۔ جب تک معاشرہ صفائی کے کارکنوں کو باعزت انسان کی بجائے حقیر مخلوق سمجھتا رہے گا، قانون کاغذوں تک ہی محدود رہے گا۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مذہبی رہنماؤں کو اس بیانیے کو بدلنے میں کردار ادا کرنا ہو گا کہ صفائی کا کام کسی خاص مذہب یا برادری کی "قسمت” نہیں بلکہ ایک باعزت پیشہ ہے جس کے بغیر کوئی شہر زندہ نہیں رہ سکتا۔
سیوریج لائنوں میں اترنے والے کارکن دراصل ہر روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہر کی صحت کی حفاظت کرتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں تحقیر، کم اجرت اور موت کا خطرہ ملتا ہے۔ قانون کاغذ پر موجود ہے، عدالتیں فیصلے دے چکی ہیں، مگر عمل درآمد کی کمی، ٹھیکیداری نظام، اور سب سے بڑھ کر سماجی امتیاز اس سانحے کو ہر چند ہفتوں بعد دہرانے پر مجبور کر رہا ہے۔ بھارت کی مثال بتاتی ہے کہ عدالتی دباؤ اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک ثابت کرتے ہیں کہ اگر ترجیح انسانی جان ہو تو مشینیں انسان کی جگہ لے سکتی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وسائل موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اور معاشرہ ان گمنام جانوں کو اتنی اہمیت دینے کے لیے تیار ہیں جتنی وہ اپنی جانوں کو دیتے ہیں۔
