تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
آئرن (Iron) انسانی جسم کے لیے ایک نہایت اہم معدنی جزو ہے۔ یہ خون میں موجود ہیموگلوبن بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہیموگلوبن سرخ خون کے خلیوں کا وہ حصہ ہے جو پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر جسم کے تمام اعضاء تک پہنچاتا ہے۔ اگر جسم میں آئرن کی مقدار کم ہو جائے تو ہیموگلوبن کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور خون کی کمی (Anemia) پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئرن کو صحت مند زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
انسانی جسم آئرن خود پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے غذا سے حاصل کرتا ہے۔ گوشت، کلیجی، مچھلی، انڈے، دالیں، لوبیا، چنے، پالک، میتھی، خشک میوہ جات، کشمش، کھجور اور سبز پتوں والی سبزیاں آئرن کے اہم ذرائع ہیں۔ وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے مالٹا، کینو، لیموں اور امرود آئرن کے جذب کو بہتر بناتی ہیں۔
بچوں، نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں میں آئرن کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ شیر خوار بچوں اور بڑھتے ہوئے بچوں کو جسمانی نشوونما کے لیے آئرن درکار ہوتا ہے۔ نوجوانی میں جسمانی اور ذہنی ترقی کے باعث اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ خواتین خصوصاً ماہواری، حمل اور دودھ پلانے کے دوران زیادہ آئرن کی محتاج ہوتی ہیں جبکہ بزرگوں میں بیماریوں اور غذائی کمی کے باعث آئرن کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔
کم عمر بچوں میں خون کی کمی ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں غذائی قلت، ماں میں دورانِ حمل خون کی کمی، بار بار انفیکشن، آنتوں کے کیڑے، وقت سے پہلے پیدائش اور صرف دودھ پر طویل انحصار شامل ہیں۔ ایسے بچوں میں چہرے کی زردی، کمزوری، چڑچڑاپن، بھوک کی کمی، وزن نہ بڑھنا، پڑھائی میں عدم توجہ اور جسمانی نشوونما میں رکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بچے کی ذہنی صلاحیت اور تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں میں خون کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال، سبزیوں اور پھلوں سے دوری اور ماہواری کے دوران خون کا ضیاع اس کی اہم وجوہات ہیں۔ ایسے نوجوان جلد تھک جاتے ہیں، کمزوری محسوس کرتے ہیں، سانس پھولتا ہے اور پڑھائی یا روزمرہ کاموں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
شادی شدہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ ماہانہ ایام، بار بار حمل، مناسب غذا کی کمی اور بعض اوقات صحت کے مسائل کو نظر انداز کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین گھر کے تمام افراد کا خیال رکھتی ہیں لیکن اپنی صحت کو اہمیت نہیں دیتیں۔ نتیجتاً وہ خاموشی سے خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اس مسئلے میں بعض اوقات والدین اور سسرال والوں کی غفلت بھی شامل ہوتی ہے۔ لڑکیوں کی غذا، صحت اور طبی معائنے پر مناسب توجہ نہ دینا مستقبل میں سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ بہت سی بچیاں بچپن سے ہی غذائی کمی کا شکار ہوتی ہیں اور شادی کے بعد حمل کے دوران ان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بیٹیوں کو متوازن غذا، صحت مند ماحول اور بروقت طبی معائنہ فراہم کریں۔ اسی طرح سسرال والوں کو بھی چاہیے کہ نئی بہو کو گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس کی صحت، آرام اور غذائی ضروریات کا خیال رکھیں۔
شادی سے پہلے والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کے خون کے ٹیسٹ اور عمومی صحت کا جائزہ لیں۔ اگر خون کی کمی موجود ہو تو اس کا علاج مکمل کروائیں۔ نوجوان لڑکوں کو بھی اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ آئرن کی کمی مردوں میں بھی جسمانی کمزوری اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں کو متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا چاہیے۔
حمل کے دوران خون کی کمی ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حاملہ خاتون میں شدید کمزوری، چکر آنا، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بچے میں کم وزن پیدائش، قبل از وقت ولادت اور بعض پیچیدگیوں کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے حمل کے دوران آئرن اور فولک ایسڈ کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی گوشت، انڈے، دالیں، سبزیاں، پھل اور دودھ سے بھرپور غذا کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔
بزرگوں میں خون کی کمی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ناقص غذا، معدے اور آنتوں کی بیماریاں، گردوں کے مسائل، بعض ادویات کا طویل استعمال اور پوشیدہ خون کا ضیاع اس میں شامل ہیں۔ بزرگوں میں کمزوری، جلد تھکاوٹ، چکر آنا، سانس پھولنا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور یادداشت میں کمی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ اس عمر میں خون کی کمی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ مکمل طبی معائنہ ضروری ہے تاکہ اصل وجہ معلوم ہو سکے۔
تمام عمر کے افراد کے لیے چند احتیاطی تدابیر نہایت اہم ہیں۔ متوازن غذا کا استعمال کیا جائے، آئرن سے بھرپور غذاؤں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جائے، سبزیوں اور پھلوں کا مناسب استعمال کیا جائے، بچوں کو آنتوں کے کیڑوں سے بچانے کے لیے صفائی کا خیال رکھا جائے، چائے اور کافی کو کھانے کے فوراً بعد استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ آئرن کے جذب میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ حاملہ خواتین باقاعدگی سے معائنہ کروائیں اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ سپلیمنٹس استعمال کریں۔ بزرگ افراد اپنی صحت کا وقفے وقفے سے جائزہ لیتے رہیں اور کسی بھی غیر معمولی کمزوری کو سنجیدگی سے لیں۔
خون کی کمی ایک ایسی بیماری ہے جسے بروقت تشخیص، مناسب غذا، صحت مند طرزِ زندگی اور طبی رہنمائی کے ذریعے بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ والدین، اساتذہ، معاشرے اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ عوام میں آئرن کی اہمیت اور خون کی کمی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ ایک صحت مند نسل ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہوتی ہے، اس لیے آئرن کی کمی کو معمولی مسئلہ سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
