تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
ہر سال 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد انسانوں کو صحت کی اہمیت سے آگاہ کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کے طریقوں کو فروغ دینا اور صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے۔ یہ دن دراصل عالمی ادارہ صحت (WHO) کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے جو دنیا بھر میں صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کرتا ہے۔ صحت انسانی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ صحت ہی اصل دولت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت صرف بیماری یا کمزوری کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر مکمل تندرستی کی حالت کا نام ہے۔ اگر انسان جسمانی طور پر تو ٹھیک ہو مگر ذہنی دباؤ یا معاشرتی مسائل کا شکار ہو تو وہ مکمل طور پر صحت مند نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح اگر کسی کو مناسب غذا، صاف پانی اور متوازن طرز زندگی میسر نہ ہو تو اس کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کی مجموعی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، غربت، غذائی کمی، آلودہ پانی اور صحت کی ناکافی سہولیات نے عوام کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان موٹاپے کے حوالے سے دنیا میں نویں نمبر پر ہے جبکہ تپ دق (ٹی بی) کے مریضوں کی تعداد تقریباً 5,10,000 ہے اور اس بیماری میں پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح جگر کے کینسر کے مریض تقریباً 50,000 ہیں، مرگی کے مریضوں کی تعداد تقریباً 22,00,000 ہے اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تقریباً 1,75,00,000 تک پہنچ چکی ہے۔ ایڈز (HIV) کے مریضوں کی تعداد تقریباً 2,00,000 بتائی جاتی ہے جبکہ ہیپاٹائٹس کے مریض تقریباً 1,00,00,000 ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 10 فیصد آبادی ذیابیطس (شوگر) میں مبتلا ہے جبکہ تقریباً 24 فیصد افراد گیسٹرک اور معدے کے مسائل کا شکار ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر صحت کے شعبے میں فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں صحت کے مسائل کی ایک بڑی وجہ صاف پانی کی کمی بھی ہے۔ بہت سے علاقوں میں لوگ آج بھی آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ، معدے کی بیماریاں اور گردوں کے مسائل تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں پانی کے فلٹریشن کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ زیر زمین آلودہ پانی پیتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
اسی طرح زرعی شعبے میں کھاد اور زہریلے اسپرے کا بے جا استعمال بھی انسانی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں پر استعمال ہونے والے کیمیائی اسپرے انسانی جسم میں داخل ہو کر مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جن میں کینسر، جگر کی بیماری اور گردوں کی خرابی شامل ہیں۔ اگرچہ ان ادویات کے استعمال سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس کے مضر اثرات معاشرے کی مجموعی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلے پر توجہ دے اور زہر سے پاک زرعی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بڑی آبادی دیہات میں رہتی ہے جہاں نہ تو جدید ہسپتال موجود ہیں اور نہ ہی تشخیص کی معیاری سہولیات دستیاب ہیں۔ اسی وجہ سے کئی بیماریاں بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ہیپاٹائٹس، گردوں کی خرابی، کینسر، شوگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریاں دیہی علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اکثر مریض اس وقت علاج کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں جب بیماری کافی حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔
آج کے دور میں ذہنی صحت بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ معاشی دباؤ، بے روزگاری، خاندانی مسائل اور سماجی پریشانیوں کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ذہنی سکون کے بغیر انسان جسمانی طور پر بھی صحت مند نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور لوگوں کو ذہنی سکون فراہم کرنے والے ماحول کی طرف توجہ دی جائے۔
صحت مند زندگی گزارنے کے لیے متوازن غذا کا استعمال، صاف پانی پینا، روزانہ ورزش یا چہل قدمی کرنا، مناسب نیند لینا اور تمباکو نوشی جیسی مضر عادات سے دور رہنا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح بیماری کی صورت میں بروقت تشخیص اور علاج بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے تاکہ مرض کو ابتدائی مرحلے میں ہی کنٹرول کیا جا سکے۔
عالمی یومِ صحت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر انسان صحت مند ہو تو وہ اپنی زندگی کے تمام فرائض بہتر انداز میں ادا کر سکتا ہے اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد کے لوگوں کی صحت کے بارے میں بھی فکر مند ہوں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں جہاں ہر فرد کو صحت مند زندگی گزارنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ کیونکہ ایک صحت مند انسان ہی ایک مضبوط خاندان، مضبوط معاشرہ اور مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔
