تحریر: محمد سلیمان قاسمی
دنیا میں بعض دن صرف کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں، اخلاقی اقدار اور انسانی کردار پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ 19 اگست عالمی یومِ انسانیت اسی مقصد کے تحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو جنگوں، قدرتی آفات، غربت، قحط، وباؤں اور دیگر انسانی بحرانوں سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے اپنی جان اور وقت خطرے میں ڈالتے ہیں۔
عالمی یومِ انسانیت کی بنیاد 19 اگست 2003ء کو بغداد میں اقوامِ متحدہ کے Canal Hotel پر ہونے والے بم دھماکے کے المناک واقعے سے جڑی ہے، جس میں 22 انسانی امدادی کارکن جان سے گئے۔ بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19 اگست کو عالمی یومِ انسانیت قرار دیا۔
انسانیت دراصل صرف امداد یا مالی تعاون کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی فلسفہ ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا دینا، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کا علاج کرنا، یتیم کا سہارا بننا، بے گھر خاندان کو پناہ دینا اور مصیبت زدہ انسان کے دکھ میں شریک ہونا انسانیت کے عملی مظاہر ہیں۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے خدمتِ انسانیت کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے۔ ایک مریض صرف ایک بیماری یا میڈیکل رپورٹ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مکمل انسان ہے، جس کے ساتھ ایک خاندان کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ طبیب کا علم اس وقت حقیقی معنوں میں بامقصد بنتا ہے جب وہ دکھی انسان کے لیے آسانی، تسلی اور صحت کا ذریعہ بنے۔
اسلام نے بھی انسانی جان، عزت اور خدمتِ خلق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"جس نے ایک جان کو زندگی بخشی گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔”
(المائدہ: 32)
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی جان کی قدر و حفاظت پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج دنیا جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں انسان جنگ، بھوک، غربت، نقل مکانی اور قدرتی آفات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم مذہب، نسل، زبان، قومیت اور سرحدوں سے بالاتر ہو کر ضرورت مند انسان کی مدد کریں۔
حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی کا نام نہیں؛ حقیقی ترقی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرے میں کمزور، بیمار، غریب، یتیم، معذور اور بے سہارا افراد بھی عزت، تحفظ اور بنیادی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
عالمی یومِ انسانیت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانیت کسی ایک ادارے، حکومت یا تنظیم کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی ایک انسان کے لیے آسانی پیدا کریں، کیونکہ کبھی ایک چھوٹی سی مدد بھی کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
آئیے عہد کریں کہ انسانیت کو صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں خدمت، ہمدردی، رحم، ایثار اور احترامِ انسانیت کو اپنا شعار بنائیں گے۔
انسانیت کی خدمت ہی وہ عظیم عمل ہے جو انسان کو انسان کے قریب اور معاشرے کو امن، محبت اور خوشحالی کے قریب لے جاتا ہے۔
