تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں جگر (Liver) کو ایک نہایت اہم عضو بنایا ہے۔ جگر خون کو صاف کرنے، غذا کو توانائی میں تبدیل کرنے اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب جگر سوزش، وائرس یا کسی دوسری بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کی ایک نمایاں علامت "یرقان” (Jaundice) ہے، جس میں آنکھوں اور جلد کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔
ہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں "عالمی یومِ ہیپاٹائٹس” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو جگر کی خطرناک بیماریوں، خصوصاً ہیپاٹائٹس بی اور سی، کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 287 ملین افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جبکہ 13 لاکھ سے زائد اموات جگر کے سرطان اور جگر کے فیل ہونے جیسی پیچیدگیوں کے باعث ہوئیں۔
یرقان بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک علامت ہے، جو خون میں بلی روبن (Bilirubin) کی مقدار بڑھ جانے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای، جگر کی سوزش، پتہ کی بیماریاں، آلودہ پانی، بعض ادویات اور جگر کا سرطان شامل ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ غیر محفوظ انجکشن، غیر معیاری طبی آلات، غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی، حجامت کے آلودہ اوزار اور ناقص صفائی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
پنجاب میں ایک اور سنگین مسئلہ زیرِ زمین پانی (Groundwater) کا آلودہ ہونا ہے۔ مختلف تحقیقات میں آرسینک، یورینیم اور دیگر مضر دھاتوں کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ عناصر براہِ راست ہیپاٹائٹس پیدا نہیں کرتے، لیکن مسلسل استعمال جگر، گردوں اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور مجموعی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پنجاب اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی آلودگی، صنعتی فضلہ، زرعی زہروں کے بے دریغ استعمال اور نکاسیٔ آب کے ناقص نظام نے عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
ہیپاٹائٹس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ اکثر برسوں تک خاموش رہتی ہے۔ مریض کو بیماری کا علم اس وقت ہوتا ہے جب جگر شدید متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ علاج میں غفلت کے نتیجے میں جگر سکڑ سکتا ہے (Liver Cirrhosis)، جگر مکمل طور پر ناکام ہو سکتا ہے، جگر کا سرطان لاحق ہو سکتا ہے، خون کی الٹیاں اور پیٹ میں پانی بھرنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اور بعض اوقات مریض قبل از وقت موت کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی جگر کے سرطان کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پنجاب صوبہ بھر میں مفت ہیپاٹائٹس اسکریننگ پروگرام شروع کرے، ہر ضلع میں جگر کے امراض کے خصوصی مراکز قائم کرے، زیرِ زمین پانی کی باقاعدہ جانچ اور آلودہ علاقوں کی نشاندہی کرے، صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے، غیر ضروری انجکشن کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرے، خون کے تمام بینکوں کی مؤثر نگرانی کرے، ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن کو مزید مؤثر بنائے، اور علماء، اساتذہ، ڈاکٹرز اور میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہمات چلائے۔
اسی طرح عوام الناس کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ ضرور کروائیں، صرف اسکرین شدہ خون ہی استعمال کروائیں، انجکشن ہمیشہ نئی سرنج سے لگوائیں، حجامت اور بیوٹی پارلرز میں جراثیم سے پاک آلات کے استعمال کو یقینی بنائیں، صاف اور محفوظ پانی استعمال کریں، ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لگوائیں، اور کسی بھی قسم کی زردی، غیر معمولی کمزوری، بھوک کی کمی یا پیشاب کے گہرے رنگ کو معمولی نہ سمجھتے ہوئے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جگر کی بیماریاں خاموش ضرور ہیں مگر بے ضرر نہیں۔ اگر ہم بروقت تشخیص، محفوظ طرزِ زندگی، صاف پانی، ویکسینیشن اور مؤثر علاج کو اپنی ترجیح بنا لیں تو ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت، طبی ادارے اور عوام مل کر ہیپاٹائٹس کے خلاف ایک مؤثر قومی تحریک چلائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس مہلک بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے۔
"ہیپاٹائٹس کا بروقت ٹیسٹ، بروقت علاج اور بروقت احتیاط — ایک صحت مند پاکستان کی ضمانت ہے۔”
