تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
انسان بظاہر ترقی کی بلند منازل طے کر رہا ہے، مگر صحت کے میدان میں اس کی حالت مسلسل زوال کا شکار ہے۔ نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، پرانی بیماریاں شدت اختیار کر رہی ہیں، اور ہسپتالوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ ہماری اجتماعی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ محض تقدیر ہے یا ہماری اپنی لاپرواہی؟
اگر ہم اپنے ماحول کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آلودگی نے ہماری زندگی کو گھیر رکھا ہے۔ فضا میں زہریلی گیسیں، پانی میں مضر کیمیکلز، اور زمین پر پھیلتا کچرا انسانی صحت کے لیے خاموش خطرہ بن چکا ہے۔ درختوں کی کٹائی اور صنعتی دھواں سانس کی بیماریوں اور الرجی میں اضافہ کر رہا ہے۔
خوراک کے میدان میں بھی ہم نے سادگی چھوڑ کر مصنوعی اور فاسٹ فوڈ کو اپنا لیا ہے۔ یہ غذائیں وقتی تسکین تو دیتی ہیں مگر جسم کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں۔ ملاوٹ شدہ دودھ، کیمیکل زدہ سبزیاں اور غیر معیاری اشیاء دل، معدہ اور شوگر جیسے امراض کو بڑھا رہی ہیں۔
طرزِ زندگی بھی بگڑ چکا ہے۔ جسمانی محنت کم، اسکرین کا استعمال زیادہ، نیند بے ترتیب اور ذہنی دباؤ عام ہو چکا ہے۔ ہم سہولت کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ معمولی مشقت بھی مشکل لگتی ہے، جس کا نتیجہ کمزور صحت کی صورت میں نکلتا ہے۔
ان تمام عوامل کے ساتھ ایک نہایت اہم اور خطرناک پہلو ہماری علاج میں غفلت ہے۔ بلڈ پریشر کے مریض باقاعدگی سے دوا استعمال نہیں کرتے، اور اگر کرتے بھی ہیں تو اپنی مرضی سے۔ یہ طرزِ عمل انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ دوا ہمیشہ مستند معالج کے مشورے سے ہی استعمال کرنی چاہیے۔
اسی طرح شوگر کے مریض اپنے مرض کو کنٹرول کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھاتے، جبکہ دل، معدے اور دیگر امراض کے مریض بھی اکثر لاپرواہی کا شکار رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دوا کا باقاعدہ استعمال نہ کرنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جب بیماری کو کنٹرول نہ کیا جائے تو وہ بڑھتی ہے اور مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے، یوں ایک مرض کئی دیگر بیماریوں کا سبب بن جاتا ہے۔
اس لیے بروقت علاج، مستقل مزاجی کے ساتھ دوا کا استعمال، اور معالج کی ہدایات پر عمل بے حد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ علاج کے لیے مستند اور تجربہ کار ڈاکٹر کا انتخاب کیا جائے، کیونکہ غیر مستند افراد پر انحصار صحت کے لیے مزید نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
خوراک کے حوالے سے بھی ہمیں اپنی عادات درست کرنا ہوں گی۔ بے وقت کھانا، غیر متوازن غذا، اور حد سے زیادہ کھانے کی عادت نقصان دہ ہے۔ مزید یہ کہ آج کل ہماری خوراک بڑی حد تک ہائبرڈ ہو چکی ہے، جس میں غیر قدرتی طریقے اور کیمیکلز شامل ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ دودھ جیسی بنیادی نعمت بھی خالص حالت میں میسر نہیں۔
یہ صورتحال ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں ضروری ہے کہ اجناس کو خالص اور دیسی طریقوں سے اگایا جائے۔ پھل، سبزیاں، گندم اور چاول کو قدرتی انداز میں تیار کیا جائے تاکہ صحت مند خوراک میسر آ سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم بیماری کے اصل اسباب کو ختم کرنے کے بجائے وقتی حل تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صحت ایک امانت ہے، اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔ صاف ماحول، متوازن غذا، مستند علاج، اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنائیں۔ اگر ہم نے آج اپنی اصلاح نہ کی تو آنے والی نسلیں اس کی قیمت ادا کریں گی، کیونکہ بیماریاں اچانک نہیں آتیں بلکہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
