وہاڑی(شمعون نذیر کھوکھر سے) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارروائی کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر راؤ فیصل الرحمن نے چند روز قبل ایک پٹواری عبدالرافع کو مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا
کارروائی کے دوران ملزم سے نشان زدہ نوٹ بھی برآمد کیے گئے تھے جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پٹواری کو بعد ازاں دوبارہ اسی حلقہ میں تعینات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری اہلکار کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوں اور اس کے خلاف باقاعدہ کارروائی ہو چکی ہو تو اسے دوبارہ اسی تعیناتی پر بحال کرنا شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔
مقامی افراد کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر ملزم نے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دوبارہ تعیناتی حاصل کی اور اس حوالے سے مزید بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں اور سول سوسائٹی نمائندگان نے کمشنر ملتان، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف انکوائری کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب بالخصوص وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متعلقہ اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور سرکاری اداروں کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
