تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
قدرتِ الٰہی نے انسانی معاشرے کی بنیاد جس ہستی کے وجود سے استوار کی ہے وہ عورت ہے۔ وہی ماں کی صورت میں نسلوں کی تربیت کرتی ہے، بہن کی صورت میں محبت اور خلوص کی علامت بنتی ہے اور بیٹی کے روپ میں گھر کے آنگن کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے۔ درحقیقت عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں سے محبت، صبر، برداشت اور انسانیت کے سبق جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب عورت صحت مند اور مطمئن ہو تو خاندان میں سکون اور معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔
دنیا ہر سال International Women’s Day کے موقع پر خواتین کی خدمات اور کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ خواتین کی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ دراصل ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی علامت ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے خصوصاً دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین آج بھی ایسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جو ان کی صحت اور زندگی کے سکون کو متاثر کرتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں تعلیم کی کمی خواتین کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ جب عورت کو علم اور آگاہی سے محروم رکھا جاتا ہے تو وہ اپنی صحت کے مسائل کو سمجھنے اور بروقت علاج کی اہمیت کو محسوس کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ نتیجتاً وہ Anemia یعنی خون کی کمی، Obesity یعنی موٹاپا اور ہارمونل مسائل جیسے Amenorrhea یعنی ماہواری کی بندش جیسے عوارض کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بعض خواتین کو Uterine Fibroids یعنی بچہ دانی کی رسولیوں جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی ذہنی صحت بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ معاشی دباؤ، گھریلو ذمہ داریاں، معاشرتی توقعات اور جذباتی مسائل کے باعث بہت سی خواتین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی دباؤ بعض اوقات Depression یعنی ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مسلسل پریشانی، بے چینی، تھکن اور زندگی میں دلچسپی کی کمی اس بیماری کی نمایاں علامات ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سی خواتین اپنے جذبات اور حقوق کے اظہار سے ہچکچاتی ہیں۔ وہ دل کی بات دل میں رکھ کر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ خاموشی بظاہر صبر اور برداشت معلوم ہوتی ہے مگر اندر ہی اندر ذہنی بوجھ اور دباؤ میں اضافہ کر دیتی ہے۔ نتیجتاً بعض اوقات یہ کیفیت اعصابی عوارض کی صورت اختیار کر لیتی ہے جنہیں طب میں Conversion Disorder کہا جاتا ہے، جسے ماضی میں ہسٹریا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔
معاشی مشکلات بھی خواتین کی زندگی میں ایک اہم چیلنج بن چکی ہیں۔ محدود وسائل، مہنگائی اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر بہت سی خواتین اپنی صحت اور آرام کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض گھروں میں گھریلو ناچاقیاں، عدم برداشت اور باہمی اعتماد کی کمی بھی عورت کی ذہنی اور جذباتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ نتیجتاً گھریلو تنازعات بڑھتے ہیں اور بعض اوقات نوبت علیحدگی تک پہنچ جاتی ہے۔
معاشرتی مشاہدات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ طلاق اور بیوگی کی شرح میں اضافہ بھی خواتین کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسی خواتین کو اکثر معاشی، سماجی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خواتین کے لیے ہمدردی، تعاون اور سہارا فراہم کرے۔
ان مسائل کا حل صرف شکایت میں نہیں بلکہ مثبت سوچ اور عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ خواتین کی تعلیم کو فروغ دیا جائے، خصوصاً دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے شعور پیدا کیا جائے۔ گھروں میں باہمی احترام، صبر اور برداشت کے ماحول کو فروغ دیا جائے تاکہ گھریلو تنازعات کم ہوں اور خاندان سکون کا گہوارہ بن سکیں۔
اسی طرح خواتین کو یہ اعتماد بھی دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے جذبات، مسائل اور حقوق کا اظہار باوقار انداز میں کر سکیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت اپنی بات بلا خوف کہہ سکے، دراصل وہی معاشرہ حقیقی ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔
آئیے International Women’s Day کے اس بامقصد موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم خواتین کی صحت، تعلیم اور عزتِ نفس کے تحفظ کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں گے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ
عورت کی صحت، اس کا وقار اور اس کا سکون دراصل معاشرے کی سلامتی اور ترقی کی بنیاد ہے،
اور صحت مند عورت ہی ایک روشن، مہذب اور متوازن مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔
