راولپنڈی(ویب ڈیسک) آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے طورخم کے نزدیک فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، کارروائی کے دوران دراندازی کرنے والا افغان طالبان کا مبینہ سرغنہ قہرمان اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افغان طالبان کمانڈر کا تعلق جلال آباد سے تھا۔
اسی طرح چمن سیکٹر میں پاک فوج کی خفیہ اطلاعات پر افغان طالبان کی مسلح تشکیل کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی، پاک فوج کی کامیاب کارروائی سے ایک افغان طالبان دہشت گرد ہلاک جبکہ 3 کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا۔
پاک فوج نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیکر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ فتنہ الخوارج کے گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے 50 مختلف مقامات پر افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
پاک فوج کی جانب سے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کی گئیں۔
پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر پر مؤثر کارروائیاں کیں، ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا، کارروائیوں کے دوران افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
پاک فوج افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف ملکی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں، آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔
