تحریر: محمد سلیمان قاسمی، ہومیو پیتھ
دنیا بھر میں دماغی اور ذہنی امراض ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اندازہ ہے کہ کروڑوں افراد کسی نہ کسی ذہنی یا دماغی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق دنیا میں تقریباً ایک ارب سے زائد افراد کسی نہ کسی ذہنی یا اعصابی بیماری کا شکار ہیں، جبکہ لاکھوں بچے دماغی نشوونما کی خرابیوں یا ذہنی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں اپنے ہوش و حواس پر مکمل اختیار نہیں ہوتا اور انہیں زندگی بھر خصوصی نگہداشت اور علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسی تناظر میں دنیا بھر میں ہر سال Brain Awareness Week منایا جاتا ہے تاکہ دماغی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور عوام کو یہ آگاہی دی جائے کہ دماغی امراض بھی دیگر جسمانی بیماریوں کی طرح سنجیدہ اور قابلِ توجہ ہیں۔
دماغ — انسانی جسم کا مرکزی نظام
انسانی جسم کا سب سے پیچیدہ اور حساس عضو دماغ ہے۔ یہی عضو انسانی شعور، سوچ، یادداشت، جذبات اور جسمانی حرکات کا مرکز ہے۔ انسان کی شخصیت، فیصلہ سازی اور زندگی کے بیشتر معاملات دماغ کے نظام سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر دماغ صحت مند ہو تو انسان اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتا ہے، لیکن جب دماغی صحت متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات فرد، خاندان اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔
دماغی معذوری اور ذہنی امراض
معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو مختلف اسباب کی بنا پر دماغی طور پر کمزور یا معذور ہو جاتے ہیں۔ بعض بچے Cerebral Palsy جیسے عارضے کا شکار ہوتے ہیں، جس میں دماغی خرابی کے باعث جسمانی حرکات، توازن اور بعض اوقات بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی نگہداشت، مسلسل علاج اور محبت بھرے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
دورانِ حمل احتیاط کی اہمیت
بچوں میں دماغی مسائل کی ایک بڑی وجہ حمل کے دوران ماں کی صحت اور ذہنی کیفیت سے متعلق ہوتی ہے۔ اگر حاملہ خاتون کو مناسب طبی سہولیات اور پرسکون ماحول میسر نہ ہو تو بچے کی دماغی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر:
بروقت طبی معائنہ اور الٹراساؤنڈ نہ کروانا
گھریلو جھگڑے اور شوہر یا سسرال کی بدسلوکی
مسلسل ذہنی دباؤ یا Depression
طلاق، اموات یا دیگر صدمات کے باعث ذہنی پریشانی
یہ تمام عوامل ماں کی ذہنی و جسمانی صحت پر اثر انداز ہو کر بچے کے دماغی ارتقاء کو متاثر کر سکتے ہیں۔
غیر تربیت یافتہ دائیوں سے ڈیلیوری کے نقصانات
دیہی علاقوں میں اکثر بچوں کی پیدائش غیر تربیت یافتہ دائیوں یا عطائی افراد کے ذریعے کروائی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل کے باعث بچے کو پیدائش کے وقت آکسیجن کی کمی یا دماغی چوٹ کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قبل از وقت پیدائش، ڈیلیوری میں غیر معمولی تاخیر اور پیدائش کے فوراً بعد بچے کا طبی معائنہ نہ کروانا بھی دماغی بیماریوں کے اسباب میں شامل ہے۔
بچپن میں غفلت اور اس کے اثرات
پیدائش کے بعد بھی اگر بچے کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو دماغی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر:
شدید بخار اور جھٹکوں کا بروقت علاج نہ کروانا
حفاظتی ٹیکوں سے غفلت جیسے Polio سے بچاؤ کی ویکسین نہ لگوانا
سر پر چوٹ لگنا یا حادثات
مناسب غذا نہ ملنا جس سے دماغی نشوونما متاثر ہو
اسی طرح بچوں کے ساتھ سختی، مار پیٹ یا مسلسل ڈانٹ ڈپٹ بھی ان کی ذہنی اور نفسیاتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
ٹریفک حادثات اور ہیلمٹ کا استعمال
دماغی چوٹ کی ایک بڑی وجہ ٹریفک حادثات بھی ہیں۔ خصوصاً موٹر سائیکل سوار افراد اگر ہیلمٹ استعمال نہ کریں تو حادثے کی صورت میں سر اور دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح کی چوٹیں بعض اوقات مستقل دماغی معذوری یا اعصابی کمزوری کا سبب بن جاتی ہیں۔
نیند کی کمی، نشہ آور ادویات اور منشیات
دماغی صحت کو متاثر کرنے والی ایک اہم وجہ نیند کی کمی بھی ہے۔ مسلسل بے خوابی یا Insomnia اعصابی نظام کو کمزور کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور یادداشت کی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی طرح غیر معیاری یا نشہ آور ادویات کا بے جا استعمال بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ منشیات کا استعمال دماغی خلیات کو متاثر کر کے ذہنی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
مرگی اور اعصابی امراض
دماغی بیماریوں میں ایک اہم مرض Epilepsy (مرگی) بھی ہے۔ اس بیماری میں مریض کو اچانک جھٹکے لگ سکتے ہیں اور وقتی طور پر شعور متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مریض کی زندگی اور روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
ذہنی اور اعصابی کمزوری کی علامات
ذہنی، نفسیاتی اور دماغی مسائل میں اعصابی کمزوری، اعصاب کی خرابی، یادداشت کی کمی اور غیر متوازن ذہنی کیفیت نمایاں ہوتی ہے۔ دماغی بے سکونی، ذہنی الجھن، بلا سبب خوف، چکر آنا، سر درد، بے چینی، گھبراہٹ، تھکن اور نیند کا نہ آنا جیسی علامات بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
جب دماغ اور اعصاب کمزور ہونے لگتے ہیں تو اعصابی جھنجھناہٹ، جسمانی کمزوری اور ذہنی افعال میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ جسم میں خون کی روانی متاثر ہونے سے یادداشت کی کمزوری، ذہنی دباؤ، توجہ کی کمی اور دماغی تھکن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ علامات بچوں، خواتین اور بزرگ افراد میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بالغ افراد میں دماغی امراض
عمر کے ساتھ بعض بیماریوں کے اثرات دماغ پر بھی مرتب ہوتے ہیں جیسے:
Stroke (فالج)
بلند فشارِ خون یا Hypertension
Diabetes کے اثرات
یہ بیماریاں دماغی اعصاب کو متاثر کر کے یادداشت اور ذہنی توازن کو کمزور کر سکتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر اور حل
دماغی بیماریوں کی روک تھام کے لیے چند بنیادی اصول اپنانا ضروری ہے:
حاملہ خواتین کا باقاعدہ طبی معائنہ
مستند ہسپتال یا تجربہ کار معالج کے ذریعے ڈیلیوری
بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل
متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی
باقاعدہ واک اور جسمانی سرگرمی
نشہ آور ادویات اور منشیات سے مکمل اجتناب
موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ کا لازمی استعمال
بچوں کے ساتھ محبت، شفقت اور مثبت تربیت
کسی بھی دماغی یا اعصابی مسئلے کی صورت میں مستند معالج سے فوری رہنمائی
اختتامیہ
دماغ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ اور شعور کا سرچشمہ ہے۔ اگر معاشرے میں دماغی صحت کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے، دورانِ حمل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، بچوں کی بہتر پرورش کی جائے اور بروقت طبی رہنمائی حاصل کی جائے تو دماغی بیماریوں کی بڑی حد تک روک تھام ممکن ہے۔
ایک صحت مند دماغ ہی ایک باشعور، متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
