تحریر: مبشر مجید
کھیل کو ہمیشہ سرحدوں سے بالاتر ایک ایسی مشترکہ زبان سمجھا گیا ہے جو قوموں کے درمیان فاصلے کم کرتی ہے۔ جب میدان میں دو حریف ٹیمیں آمنے سامنے آتی ہیں تو مقابلہ سخت ضرور ہوتا ہے، مگر اختتام پر مصافحہ اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ کھیل دشمنی نہیں بلکہ مہذب مسابقت کا نام ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچوں میں بعض مواقع پر بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے واقعات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس طرزِ عمل کو نہ صرف شائقین بلکہ مختلف ممالک کے کھلاڑیوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا ہے۔
کرکٹ سمیت دنیا کے بیشتر کھیلوں میں میچ کے اختتام پر ہاتھ ملانا ایک قدیم روایت ہے۔ یہ عمل اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ مقابلہ میدان تک محدود تھا۔ کھیل میں جیت اور ہار اپنی جگہ، مگر احترام اور برداشت بنیادی اقدار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل سطح پر کھیلوں کے ضابطے بنانے والی تنظیمیں، بالخصوص انٹرنیشنل کرکٹ کونسل، اسپورٹس مین اسپرٹ کو کھیل کا لازمی جزو قرار دیتی ہیں۔
جب کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو وہ دراصل یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیاسی اختلافات یا سفارتی کشیدگیاں کھیل کے میدان میں نفرت کا رنگ نہیں بھرتیں۔ اسی روایت نے ماضی میں کئی بار کشیدہ تعلقات رکھنے والے ممالک کے درمیان بھی مثبت فضا پیدا کی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز ویسے ہی شدید دباؤ اور جذباتی ماحول میں کھیلے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام اس مقابلے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر میچ کے اختتام پر مصافحہ نہ کیا جائے تو یہ عمل مزید حساسیت کو جنم دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے باضابطہ ہاتھ نہیں ملایا یا روایتی مصافحہ کی رسم سے گریز کیا۔ اس کے بعد کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی کہ آیا یہ رویہ کھیل کی روح کے مطابق ہے یا نہیں۔
خود بھارت کے بعض سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں نے بھی اس طرزِ عمل پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی جذبات اپنی جگہ، مگر کھیل میں شائستگی اور برداشت بنیادی اصول ہیں۔ اسی طرح سری لنکا کے چند سابق کرکٹرز نے بھی میڈیا گفتگو میں کہا کہ کھیل کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنا چاہیے اور مصافحہ جیسی روایات کو برقرار رہنا چاہیے۔
کچھ حلقوں نے اس معاملے کو انسانی وقار اور باہمی احترام کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کھلاڑی جان بوجھ کر حریف ٹیم سے مصافحہ سے گریز کریں تو یہ ایک طرح کا علامتی بائیکاٹ تصور کیا جا سکتا ہے، جو کھیل کی اخلاقی بنیادوں سے متصادم ہے۔
یہ درست ہے کہ کھیل میں کسی کھلاڑی کو زبردستی ہاتھ ملانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، مگر عالمی سطح پر نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں سے یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ وہ اپنے رویے سے مثبت مثال قائم کریں گے۔ نوجوان نسل اپنے ہیروز کو دیکھ کر سیکھتی ہے۔ اگر میدان میں سرد مہری یا بے اعتنائی دکھائی جائے تو اس کے سماجی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات طویل عرصے سے سیاسی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔خاص طور پر گزشتہ برس 10 مئی کو پاکستان نے بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جسے پوری دنیا نے دیکھا اور خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی اس ہار کا ذکر متعدد بار کیا۔ بھارت کو پاکستان نے یہ احساس دلایا کہ امن کی خواہش کو کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے کیونکہ ہر ملک اپنی سالمیت کے لیے جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے تاہم کھیل کو اکثر “ٹریک ٹو ڈپلومیسی” یعنی عوامی سطح پر روابط بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے کبھی ہمسایہ ملک بھارت سے کشیدہ تعلقات نہیں چاہے لیکن مسائل کے حل میں رکاوٹ پیدا کرنے اور امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کے خلاف اقدامات حکومت اور پاک فوج کی اہم ذمہ داری ہے جو وہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کا ایک ذریعہ کھیل کا میدان بھی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں سیاست کو شامل نہ کیا جائے لیکن بھارت کی جانب سے کھیل کے میدان نفرت انگیزی مایوس کن اقدام ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔ ماضی میں کرکٹ سیریز نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔اب بھی ایسا ممکن ہے اگر دونوں جانب سے مثبت کوشش کی جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کھلاڑیوں کا رویہ سیاسی بیانیے سے متاثر ہو رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کھیل کی خودمختاری پر سوال اٹھتا ہے۔ کھیلوں کی عالمی روایات اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ میدان میں آنے کے بعد کھلاڑی صرف کھیل پر توجہ دیں اور باہمی احترام کو مقدم رکھیں۔
اس معاملے کو میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی خاصی توجہ دی۔ بعض صارفین نے اسے غیر ضروری تنازع قرار دیا اور کہا کہ کبھی کبھار مصافحہ نہ ہو پانا محض انتظامی یا وقتی صورتحال کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم دیگر افراد نے اسے دانستہ رویہ قرار دے کر شدید تنقید کی۔
شائقین کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر عوام خود برداشت اور احترام کا مظاہرہ کریں تو کھلاڑیوں پر بھی مثبت دباؤ پڑتا ہے۔ کھیل میں جذبات فطری ہیں، مگر نفرت کو فروغ دینا کسی کے مفاد میں نہیں۔پاک بھارت کرکٹ میچ میں اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ دونوں ممالک کے تماشائی آپسی محبت کا اظہار کرتے ہیں مل کر خوشی مناتے ہیں لیکن میدان کے اندر ملکی سیاست کا پرچار ہوتا ہے جو قابل افسوس امر ہے۔
اس تنازع کا حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ مکالمے اور رہنمائی میں ہے۔ کرکٹ بورڈز اور عالمی تنظیمیں مشترکہ ضابطہ اخلاق پر مزید زور دے سکتی ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو یاد دلائے کہ ان کا ہر عمل عالمی سطح پر دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ پریس کانفرنسز، مخلوط تربیتی سیشنز یا خیر سگالی سرگرمیوں کے ذریعے مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں کئی بار دیکھا گیا ہے کہ کھلاڑی ذاتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلق رکھتے ہیں، چاہے ان کے ممالک کے سیاسی تعلقات جیسے بھی ہوں۔
کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں لوگوں کے جذبات سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں ہر چھوٹا سا اشارہ بھی بڑی علامت بن جاتا ہے۔ مصافحہ نہ کرنا بظاہر ایک مختصر لمحہ ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق اس بات کو سمجھیں کہ کھیل کا میدان نفرت یا سیاسی پیغام رسانی کا پلیٹ فارم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کھلاڑی میچ کے اختتام پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو وہ دراصل اپنے مداحوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ سخت ترین مقابلے کے بعد بھی احترام باقی رہ سکتا ہے۔
پاکستان، بھارت سمیت تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ کھیل کی اصل روح—برداشت، شائستگی اور باہمی احترام—کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔ کیونکہ آخرکار، جیت یا ہار وقتی ہوتی ہے، مگر کردار اور رویہ تاریخ میں محفوظ رہتا ہے۔
