بہاولپور(رپورٹ: شمعون نذیر کھوکھر)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں غیر قانونی اور غیر آئینی تقرریوں کے معاملے نے تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے، جس پر اعلیٰ حکام بشمول وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ خزانہ دار (ریٹائرڈ) خالد محمود عالی نے وائس چانسلر اور چیئرمین سلیکشن بورڈ کو درخواست ارسال کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ متعدد افسران اور امیدواران کو قانونی عمل اور اشتہار کے بغیر تقرری دی گئی، اور انہیں غیر قانونی الاؤنس اور مراعات فراہم کی گئیں۔درخواست میں زور دیا گیا ہے کہ 2007 اور 2008 میں کی گئی تقرریاں، بشمول مسٹر طالب حسین اور مسٹر محمد عارف مرزا، غیر قانونی ہیں اور عدالت میں چیلنج شدہ ہیں۔ یونیورسٹی سینڈیکیٹ اور Rationalization Committee کے فیصلوں کو نظر انداز کیا گیا، جس سے غیر قانونی تقرریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مزید براں، خالد محمود عالی نے اپنی اپیل میں درخواست کی ہے کہ جو سیلیکشن کمیٹی کا اجلاس ہونے والا ہے، اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے تاکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں قانونی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اینٹی کرپشن حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ جو افراد غیر قانونی تقرریوں اور مراعات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف مکمل اور برپور کارروائی کی جائے، کیونکہ ان کی کرپشن کی وجہ سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور جعلی آرڈرز کے تحت مالی نقصانات ہوئے ہیں۔درخواست میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صرف قانونی اہل امیدواران کو حق دار بنایا جائے تاکہ یونیورسٹی میں شفافیت برقرار رہے اور مستقبل میں ایسے غیر قانونی عمل کی روک تھام ممکن ہو۔زرائع نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ یونیورسٹی کے نظام اور شفافیت کے لیے سنگین نوعیت کا ہے اور فوری ایکشن ناگزیر ہے۔
