اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سی ڈی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درختوں کی کٹائی کے کیس سے متعلق6صفحات کا جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم آفس کی منظوری سے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی گئی ۔
سی ڈی اے کا اپنے جواب میں مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2022 میں ماحولیات سے متعلق کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ،انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر اداروں کو کمیٹی میں شامل کیا ،پولن الرجی کے خاتمے سے متعلق 2023 میں کمیٹی میٹنگ بھی رکھی گئی۔
پولن الرجی پھیلاؤ روکنے سے متعلق پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کی ریسرچ موجود ہے ،پولن الرجی کے خاتمے سے متعلق صحافی سلیم صافی نے 2024 میں آرٹیکل بھی لکھا ،وزیر اعظم آفس نے نوٹس لے کر سی ڈی اے کو اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی ۔
اعلی ٰعدلیہ کے فیصلوں ، ریسرچ اور اجلاسوں کے بعد وزیر اعظم آفس کی منظوری سے فیصلہ ہوا ،پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کرکے ماحول دوست درخت لگا دئیے گئے ،درختوں کی کٹائی کے معاملات باقاعدہ شفاف ٹینڈر کے تحت ہوتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی وے کیساتھ پیپر ملبری درختوں کی کٹائی 2022 میں بھی کی گئی تھی ،معرکہ حق کی یاد گار کی تعمیر کی منظوری حکومت نے دی ،سی ڈی اے نے پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے زمین پلاننگ منسٹری کے حوالے کی ۔
اس جگہ سے درخت شکر پڑیاں سمیت دوسری جگہ منتقل کئے گئے ،سی ڈی اے نے درختوں کی کٹائی روکنے سے متعلق درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔
