ایبٹ آباد (رپورٹ: گل افضل شاہ) ایبٹ آباد اغواء لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا معمہ مزید گہرا— مرکزی ملزمان گرفتار اور اقرار جرم لیکن مغویہ کا ابھی تک سراغ نہ مل سکا جس کے باعث خاندان اور عوام شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔
پولیس نے اغواء کیس میں ملوث مرکزی ملزمہ ردا، اس کے شوہر وحید بلا اور مبینہ طور پر اس گھناؤنے فعل میں شامل لڑکی بنوٹہ ٹھنڈیانی کے خطرناک ڈکیت و منشیات فروش گروہ کے سہولت کار ندیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور اسکی نشاندہی پر اندرون شہر اور بیرون شہر متعدد مقامات پر پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں مغویہ کی برآمدگی اور گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر ڈاکٹر وردہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن شبہ ہے کہ کپڑے کے تاجر وحید اس کی اہلیہ ردا ، ڈکیت و منشیات فروش گروہ کا سرغنہ شمریز اور ندیم اس کروائی میں ملوث ہیں۔ انکے علاوہ تھانہ کینٹ کا ایس ایچ او بھی مبینہ غفلت کی وجہ سے قصو وار ہے جس نے بروقت کوئی کاروائی نہیں کی اور ڈاکٹر وردا کی سہیلی مرکزی ملزمہ ردا اور اس کے شوہر کو واپس گھر بھیج دیا اور اسکے لواحقین کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ،دو دن تک ڈی پی او ہارون الرشید کو اس کیس سے مکمل طور پر لاعلم رکھا ، جب ڈی پی او کے نوٹس میں یہ کیس آیا تو انھوں نے ملزمہ اور اس کے شوہر کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا ، تفتشی ٹیم تشکیل دی جس نے ملزمہ سے سچ اگلوایا۔
ملزمہ کے مطابق ڈاکٹر وردا کو وہ اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سے جدون پلازہ والے گھر میں لے کر گئی گھر کے اندر ندیم نامی ڈکیت و منشیات فروش اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا،ڈاکٹر کو ان کے حوالے کر کے ملزمہ وہاں سے اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ہمراہ نکل گئی ، ندیم اور گینگ کا سرغنہ شمعریز نامی شخص نے ڈاکٹر وردا کو وہاں سے سوزوکی کے ذریعے منتقل کیا ، ملزمہ کی نشاندہی پر نواں شہر پولیس نے بڑا آپریشن کر کے ندیم کو گرفتار کیا تو اس نے جو حقائق پولیس کو بتائے اس کے بعد پولیس نے ٹھنڈیانی کے جنگلات اور ندی نالوں میں ڈاکٹر وردا کی بازیابی اور تلاش کے لئے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اور قیاس یہ ہے کہ انہیں ق ت ل کر دیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ خصوصاً ڈاکٹر کے والد انتہائی ذہنی اذیت اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
آئندہ چند گھنٹوں میں پولیس کی جانب سے بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم مختلف افواہوں نے عوام کے دلوں میں خوف، بے چینی اور افسردگی پیدا کر دی ہے۔
عوامی حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایس ایچ او کینٹ اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو شاید آج ڈاکٹر وردا مشتاق بازیاب ہو چکی ہوتیں۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر زندہ بھی ہیں یا نہیں — اس میں کوئی مصدقہ اطلاع تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
دوسری جانب ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر معظم خان نے کہا ہے کہ چار دن گزر جانے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی بازیابی نہ ہونا اداروں کی سنگین نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔
اسی غفلت کے خلاف بطور احتجاج کل بروز سوموار بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں تمام الیکٹو سروسز کا بھرپور اور مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ڈاکٹرز برادری واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کی فوری اور محفوظ بازیابی کے سوا کوئی دوسری بات قابلِ قبول نہیں۔
