وہاڑی ( ویب ڈیسک ) مبینہ پولیس مقابلے میں وکیل کی ہلاکت پر شہر میں کشیدگی، وکلاء کا احتجاج، پولیس نے مؤقف جاری کیا، ذیشان وکالت کی آڑ میں منشیات فروشی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا اور 14 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، والدہ کی درخواست پر رائے ساجد سمیت درجن سے زائد اہلکاران پر کراس ورشن
تفصیل کے مطابق تھانہ ماچھیوال کی حدود چک نمبر 21 ڈبلیو بی میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ایک مقامی وکیل اور وہاڑی بار کا رکن ذیشان ڈھڈی بھی شامل تھا۔ واقعہ کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور وکلاء برادری سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی۔ وکلاء نے ملتان روڈ پر دھرنا دے کر ٹریفک بند کردی جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس جانے والے راستے بھی مکمل طور پر بند دیے تھے، جس کے باعث شہریوں اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ وکلاء کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ذیشان کو پولیس مقابلے کے نام پر ناحق قتل کیا گیا ہے۔ صدر بار وہاڑی چوہرری محمد شعبان نے احتجاج میں خطاب کرتے ہوئے واقعہ کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ذیشان کی نعش فوری طور پر ورثاء کے حوالے کی جائے، پوسٹ مارٹم کے دوران بار کا نمائندہ موجود ہو اور واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس نے واقعہ کے بعد مقتول کے کئی رشتہ داروں کو حراست میں لیا ہوا ہے جنہیں فوری رہا کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔ دوسری جانب پولیس نے اپنے مؤقف میں اس واقعے کو باقاعدہ پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھانہ ماچھیوال کی پولیس پارٹی نے چک 21 ڈبلیو بی میں منشیات فروشوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا کہ گھر کے اندر سے موجود ملزمان نے اچانک پولیس پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں نے زمین پر لیٹ کر اپنی جان بچائی اور حقِ حفاظتِ خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران دونوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے موقع پر ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے دو ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے ریڈ جاری ہیں۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ذیشان سکنہ 21 ڈبلیو اور حسنین یوسف سکنہ 19 ڈبلیو بی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ذیشان وکالت کی آڑ میں منشیات فروشی، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا اور 14 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جبکہ موقع سے سات کلو کے قریب ہیروئین اور چرس بھی برآمد کی گئی ہے۔ واقعہ کی اطلاع پر ڈی ایس پی سرکل صدر محمد رضوان خان اور ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم منصور الٰہی بھاری نفری سمیت موقع پر پہنچ گئے۔اس واقعے کے بعد شہر میں صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔ وکلاء پولیس کے مؤقف کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جبکہ پولیس اسے قانون کے مطابق کی گئی کارروائی قرار دے رہی تھی۔ مقتول ذیشان ڈھڈی کی نماز جنازہ اس کے آبائی علاقہ میں ادا کی گئی اس موقع پر وہاڑی بار کے ممبر بابر زمان ایڈووکیٹ نے اپنےویڈیو بیان میں بتایا کہ ذیشان 5 مربع اراضی کا مالک تھا اس پر منشیات کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2 روز قبل مقتول ذیشان ڈھڈی ممبر قومی اسمبلی سید ساجد مہدی سلیم کے ہمراہ ڈی پی او وہاڑی محمد افضل سے ان کے دفتر میں ملا اور بتایا کہ اس کے علاقہ کی پولیس اس سے پیسوں کا مطالبہ کر رہی ہے اور نہ ادا کرنے پر جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کی دھمکی دے رہی ہے جس پر مبینہ طور پر ڈی پی او نے چھٹیوں سے واپس آ کر صورت حال دیکھنے کا کہا۔ انہوں نے بتایا کہ ماورائے عدالت قتل معاشرے میں بگاڑ کی وجہ بن رہا ہے الزام علیہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ دریں اثنا وہاڑی بار کے مطالبے پر پولیس نے انسپکٹر رائے ساجد سمیت ایک درجن سے زائد افراد کے خلاف کراس ورشن مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
