لاہور(مبشر مجید) بسنت، جو کبھی پنجاب خصوصاً لاہور کی پہچان سمجھی جاتی تھی، آج ایک بار پھر عوامی اور ثقافتی
حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ یہ تہوار موسمِ بہار کی آمد پر منایا جاتا تھا اور اس کی سب سے نمایاں علامت پتنگ بازی، رنگ برنگا لباس اور روایتی کھانے تھے۔
تاریخی طور پر بسنت کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ مغل دور میں لاہور میں بسنت کو شاہی سرپرستی حاصل رہی، جہاں بادشاہ اور امراء بھی پتنگ بازی میں حصہ لیا کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بسنت ایک عوامی ثقافتی تہوار بن گیا، جس میں ہر طبقے کے افراد شریک ہوتے تھے۔
بسنت کے موقع پر شہر کی چھتیں آباد ہوتیں، آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا اور ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا جاتا۔ لوگ پیلے رنگ کے کپڑے پہنتے اور مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ اور دیسی مٹھائیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
تاہم، گزشتہ برسوں میں بسنت کو شدید تنقید اور حفاظتی خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیمیکل اور دھاتی ڈور کے استعمال سے پیش آنے والے حادثات کے باعث حکومت نے عوامی سطح پر بسنت منانے پر پابندی عائد کر دی۔ ان واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع نے اس تہوار کو متنازع بنا دیا۔
آج بسنت اگرچہ عملی طور پر محدود ہو چکی ہے، مگر سوشل میڈیا، ثقافتی مباحث اور عوامی یادوں میں اس کا ذکر اب بھی زندہ ہے۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس امید کا اظہار کر رہی ہے کہ مستقبل میں بسنت کو محفوظ اور منظم انداز میں دوبارہ منانے کا موقع ملے گا
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اگر محفوظ قوانین اور سخت نگرانی کے ساتھ اسے بحال کیا جائے تو یہ پنجاب کے ثقافتی تشخص کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی تاریخ اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ اسی بات کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں محفوظ بسنت منانے کا اعلان کیا تھا جس کی تاریخ 6, 7 اور 8 فروری رکھی گئی ہے۔ اس کے لیے دور اور پتنگ بنانے والے افراد کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا گیا اور انہیں پابند بھی کیا گیا کہ دھاتی ڈور، چرخی اور کیمیکل والی ڈور سمیت دیگر پابندیوں پر عمل درآمد کریں اور ہر خریدار کو باقاعدہ کیو آر کوڈ فراہم کیا گیا جو وہ ڈور اور پتنگ پر ہر صورت لگائے گا ورنہ کاروائی ہو گی۔ لاہور کے مختلف علاقے مخصوص کیے گئے ہیں جہاں بسنت منانے کی اجازت ہو گی ان میں زیادہ تر اندرون لاہور کا علاقہ ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے یکم تا 8 فروری لوہے کے راڈز لگوانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی موٹر سائیکل سوار کے گلے پر ڈور پھرنے کا واقعی پیش نہ آ سکے اس کے پابندی نہ کرنے والے کو 5 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔اسی لیے ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک ملین راڈ موٹر سائیکل سواروں کو مفت فراہم کیے گئے ہیں۔
لاہور میں تین دن بسنت منانے کے حوالے سے کافی گرمجوشی دیکھنے میں آ رہی ہے لاہوریے اور ان کے دوست رشتہ دار ناصرف ملک کے دیگر شہریوں بلکہ بیرون ملک سے بسنت منانے آ رہے ہیں۔ اونچی اور نمایاں چھتوں کی بکنگ کو رہی ہے اور خوب تیاریاں جاری ہیں۔ خواتین خاص طور پر بسنت کے مطابق لباس اور میچنگ جوتے بنوانے میں مگن ہیں۔
اس سے قبل سرکاری سطح پر 2007 میں بسنت کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن دھاتی ڈور اور کیمیکل والی ڈور کے استعمال سے حادثات میں نمایاں اضافہ کو گیا تھا جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ رواں برس محدود پیمانے پر بسنت منانے کا تجربی اگر کامیاب رہا تو ممکن ہے اگلے سال اسی وسیع کیا جا سکے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ اتنی سختی اور پابندی کے ساتھ محفوظ بسنت ممکن ہو سکے گی؟
یہ تو وقت ہی بتائے گا
